اسرائیلی وزیراعظم کی کرپشن مقدمات پراستثنیٰ کی درخواست

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری کرپشن، رشوت ستانی اور دھوکا دہی کے مقدمات میں پارلیمنٹ سے استثنیٰ کی درخواست کردی ہے جس سے ان کے خلاف جاری تحقیقات التوا کا شکار ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو پر گزشتہ سال نومبر میں رشوت ستانی، دھوکا دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی فرد جرم عائد کی گئی تھی جہاں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے تحائف اور اپنے حق میں میڈیا کوریج کے بدلے اسرائیلی میڈیا اداروں کو کروڑوں ڈالر دیے۔تاہم نیتن یاہو نے ان تمام تر الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور میڈیا کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے درخواست کی مدت کے خاتمے سے محض 4گھنٹے قبل ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران یہ اعلان کیا جبکہ استثنیٰ کی درخواست کے بعد نیتن یاہو کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی جاسکتی۔نیتن یاہو نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ان پر مقدمے سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور وہ پارلیمنٹ کی طرف سے تحفظ کے مستحق ہیں۔ گزشتہ دہائی کے دوران مستقل اقتدار میں رہنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت میں صرف لوگ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کی قیادت کون کرے گا۔
اسرائیل کے قانون کے تحت کوئی بھی رکن پارلیمنٹ متعدد وجوہات کی بنیاد پر استثنیٰ کی درخواست کر سکتا ہے جس میں سب اہم اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ استغاثہ کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔اگر نیتن یاہو نے بدھ کو استثنیٰ کی درخواست دائر نہیں کی ہوتی تو ان کے خلاف اتوار کو درخواست دائر کی جا سکتی تھی جس کے بعد کارروائی کا آغاز عمل میں لایا جاتا۔موجودہ سیاسی بحران کے سبب پارلیمنٹ کی جانب سے دو مارچ کو ہونے والے انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل مشکل نظر آتا ہے۔استثنیٰ کے لیے نیتن یاہو کو 120اراکین میں سے 61کی حمایت درکار ہے اور یہ وہی اکثریت ہے جو اپریل اور ستمبر میں انتخابات کے بعد انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار تھی اور اکثریت نہ ملنے پر وہ حکومت نہیں بنا سکے تھے۔اگر پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے نیتن یاہو کو استثنیٰ دیا جاتا ہے تو اسرائیلی سپریم کورٹ کے پاس اس فیصلے پر نظرثانی اور اسے منسوخ کرنے کا اختیار موجود ہے۔استثنیٰ کی درخواست کے بعد نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل خطرات سے دوچار ہو گیا ہے جہاں مخالفین انہیں ایک مطلق العنان حکمران قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں اسرائیلی وزیر اعظم خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور اس سے اسرائیلی جمہوری اور عدالتی بنیادیں خطرات سے دوچار ہو جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button