بھارت اور چین کی جنگ چھڑی تو پاکستان کیا کرے گا؟

بھارت اور چین کے درمیان لداخ کی سرحد پر بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور جھرپوں کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ معاملہ بڑھتے ہوئے بڑی جنگ کی صورت اختیار نہ کرلے جس میں پاکستان کو بھی چین کا اتحادی ہونے کی بنا پر کودنا پڑ جائے۔
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کی لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارت اور چین کے فوجیوں کی گرما گرمی اور آپسی دھکم پیل کی ویڈیوز وائرل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ اس تناؤ کو 1999 میں انڈیا کی پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی سرحدی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے مشورہ شروع کر رکھا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت بھی کی ہے۔ ان دونوں میٹنگز کا پیش خیمہ رواں ماہ ایل اے سی پر کم از کم چار مقامات پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپ ہے۔ لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔
اس صورتحال میں بھارتی وزیر دفاع نے بری بحری اور فضائی افواج کے اعلیٰ افسران کی ایک میٹنگ طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے انتہائی خراب صورت حال کے پیش نظر اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے اور ملک کی سالمیت کا مضبوطی کے ساتھ دفاع کرنے کے لیے کہا ہے۔ 66 برس کے شی جن پنگ حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جنرل سیکرٹری ہیں اور انھوں نے یہ باتیں حال ہی میں ایک پارلیمانی سیشن میں پیپلز لبریشن آرمی اور پیپلز آرمڈ پولیس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہیں۔شی جن پنگ نے مزید کہا کہ فوج کو خراب ترین صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس کے لیے اپنی تربیت اور جنگی تیاری کی سطح میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ فوری طور پر اور مؤثر ڈھنگ سے کسی بھی قسم کی پیچیدہ صورتحال سے مضبوطی سے نمٹ سکیں اور قومی سلامتی، سکیورٹی اور ترقیاتی مفادات کا دفاع کر سکے۔‘
فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لداخ میں سرحد کے نزدیک چینی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جبکہ دیمچوک، دولت بیگ اولڈی، دریائے گلوان اور پینگونگ سو جھیل کے اطراف میں انڈین اور چینی فوج نے اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے اور دونوں نے اپنے اپنے علاقے کی جھیلوں میں کشتیوں کی گشت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سے پہلے مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک پانچ اور چھ مئی کو چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ چین اور انڈیا دونوں ہی لداخ کے سرحدی علاقے میں ایک دوسرے پر غیر قانونی تعمیرات قائم کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
دراصل انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انڈیا اور چین کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیشمیں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔ بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔
انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے۔ چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔ مجموعی طور پر چین اروناچل پردیش میں میک موہن لائن کو قبول نہیں کرتا اور اس نے اکسائی چین سے متعلق انڈیا کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان حالات میں چین اور انڈیا کی تازہ کشیدگی کو صرف ایل اے سی کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ جب انڈیا نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹایا تھا اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا تو چین نے اس پر سخت تنقید کی تھی اور اسے ’ناقابل قبول اور‘ چین کی ’سالمیت‘ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ ان حالات میں دفاعی امور کے ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت اور چین کے مابین جاری سرحدی کشیدگی کہیں پھیل کر بڑی جنگ کی شکل اختیار نہ کر لے۔ اگر ایسا ہوا تو ہو سکتا ہے چین کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بھی اس جنگ میں کودنا پڑ جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button