بھارت نے پاکستان مخالف مہم تیز کردی، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ڈوزیئر میں بھارت کی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت کے انکشافات کے بعد بھارتی حکومت نے جھوٹے بیانیے، من گھڑت ثبوتوں اور جھوٹی کارروائیوں سے مزین پاکستان مخالف مہم کو مزید تیز کردیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے یہ بیان بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے غیرملکی نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کے علاقہ نگروتا میں نام نہاد دہشت گرد حملے کے حوالے سے دی گئی بریفنگ پر جاری کیا۔ ایک دن قبل بھارتی سیکریٹری خارجہ ہرش شرنگلہ نے غیرملکی نمائندوں کو 9نومبر کو ہوئے واقعے میں پاکستان کے مبینہ کردار کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کی ذومعنی بریفنگ مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طور پر کیے گئے کسی حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کی منصوبہ بندی، معاونت، مالی مدد اور اسے انجام دینےکے حوالے سے ناقابل تردید شواہد کا حامل ڈوزیئر پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے کے بعد بھارتی حکومت نے جھوٹے بیانیے، من گھڑت ثبوت اور جھوٹیہ کارروائیاں دکھا کر اپنی پاکستان مخالف مہم کو مزید تیز کردیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹے بیانیہ کو بچانے اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی ہندوستان کی مایوس کن کوششوں کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کو بھارت کے اس اقدام کے حوالے سے مسلسل سنجیدہ آگاہ کرتا رہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کو ملوث کرنے اور علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے ارادے سے جھوٹی کاروائی کر سکتا ہے اور ہم ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو اس کطرے سے آگاہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو بے نقاب کرتا رہے گا اور عالمی پروپیگنڈہ سے عالمی برادری کو گمراہ نہیں ہونے دے گا۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بھارت سرپرستی کے حوالے سے ناقابل ثبوتوں کے ساتھ پیش کردہ ڈوزیئر پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے ضمرے میں لاتے ہوئے عمل کرنا چاہیے۔ جمعہ کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ موجودگی سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ان کی بڑی تباہی پھیلانے کی کوششوں کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کے ایک دن بعد بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔
