جوبائیڈن کو اختیارات کی منتقلی کے آغاز کی اجازت مل گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے اختیارات کے منتقلی کے عمل کو شروع کرنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کردی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا صرف تب ہوگا جب 3 نومبر کے تصدیق شدہ انتخابی نتائج میں ان کے حریف جو بائیڈن کی جیت ظاہر ہو۔ جو بائیڈن جو ایک ڈیموکریٹ ہیں، کے پاس اب ٹرمپ کے 232 کے مقابلے میں 306 انتخابی ووٹ ہیں اور وہ اپنے ریپبلکن حریف سے تقریباً 6 لاکھ مقبول ووٹوں سے آگے ہیں۔ جو بائیڈن کے ٹرمپ کے 7 کروڑ 40 لاکھ ووٹوں کے مقابلے میں تقریباً 8 کروڑ ووٹس ہیں۔ جو بائیڈن کے 8 کروڑ ووٹ صدارتی امیدوار کو ملنے والے اب تک کے سب سے زیادہ ووٹس ہیں جبکہ ٹرمپ کے 7 کروڑ 40 لاکھ ووٹس دوسرے نمبر پر ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک کے بہترین مفاد میں، میں ایملی اور ان کی ٹیم کو تجویز کر رہا ہوں کہ وہ ابتدائی پروٹوکول کے حوالے سے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ کرے، اور میں نے اپنی ٹیم کو بھی ایسا کرنے کو کہا ہے’۔
I want to thank Emily Murphy at GSA for her steadfast dedication and loyalty to our Country. She has been harassed, threatened, and abused – and I do not want to see this happen to her, her family, or employees of GSA. Our case STRONGLY continues, we will keep up the good…
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) November 23, 2020
تاہم ٹرمپ کی جانب سے ابھی بھی باضابطہ طور پر اعتراف کرنا باقی ہے مگر جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (جی ایس اے) کی سربراہی کرنے والی ایملی مرفی نے اگلا قدم اٹھایا اور اعلان کیا کہ وہ صدارتی منتقلی کے آغاز کی اجازت دے رہی ہیں۔ ٹرمپ کی تعینات کردہ ایملی مرفی، نے اس سے قبل اس عمل کو روک دیا تھا تاہم اب انہوں نے بھی جو بائیڈن کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہیں فاتح تسلیم کیا گیا۔ اس سے جو بائیڈن کے لیے فنڈز، دفتر کی جگہ اور خفیہ بریفنگ تک رسائی کھل جاتی ہے اور وائٹ ہاؤس میں دوسری مدت کے لیے ٹرمپ کی کوشش کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ایملی مرفی نے جو بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ‘براہ کرم جان لیں کہ میں نے قانون اور دستیاب حقائق کی بنا پر آزادانہ طور پر اپنا فیصلے کیا ہے اور اور مجھ پر کبھی بھی کسی ایگزیکٹو برانچ کے عہدیدار نے براہ راست یا بالواسطہ دباؤ نہیں ڈالا بشمول وہ جو وائٹ ہاؤس میں ہیں یا جی ایس اے میں ہیں’۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد مشی گن ریاست کی تصدیق بھی سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ جو بائیڈن نے ایک لاکھ 50 ہزار ووٹوں سے فتح حاصل کرلی ہے۔ ہفتے کے روز پنسلوینیا میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ مہم کا مقدمہ ختم کردیا دیا جس میں اس ریاست کی سرٹیفکیشن کو روکنے کے لیے کوشش کی گئی تھی۔ چار اہم ریاستوں میں سے ایک اور جارجیا نے بھی سابق نائب صدر کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ داخلے کو یقینی بنانے کی تصدیق کردی ہے۔ جہاں ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں اصرار کیا کہ ‘ہم لڑائی جاری رکھیں گے’ وہیں سرکاری سرٹیفیکیشن نے یہ واضح کردیا کہ ان کے پاس آپشنز ختم ہورہے ہیں۔ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ تکنیکیوں کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ تکنیکی طور پر تصدیق سے قبل اعلان کردہ تمام نتائج میڈیا رپورٹس تھے اور قانونی طور پر پابند نہیں تھے۔ تاہم تصدیق شدہ نتائج سرکاری ہیں اور جب یہ بات واضح ہوگئی کہ مصدقہ نتائج بھی جو بائیڈن کے حق میں ہیں تو ٹرمپ نے ہار مان لی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں نے دیکھا کہ ٹرمپ کے اہلخانہ نے بھی ہفتے کے آخر میں واشنگٹن سے نکلنے کا آغاز کردیا ہے ٹرمپ کی صاحبزادی اور داماد جو ان کے مشیر بھی ہیں، دونوں نیو یارک چلے گئے ہیں۔ پیر کی رات سینیٹرز لامر الیگزنڈر اور بل کیسڈی نے بڑھتی ہوئی تعداد میں ریپبلیکنز قانون سازوں میں شمولیت اختیار کی جو جو بائیڈن کو صدر تسلیم کررہے ہیں حالانکہ چند اعلی ری پبلیکنز اب بھی ٹرمپ کے تسلیم ہونے کے منتظر ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ نے ان کے لیے اس مسئلے پر واضح مؤقف اختیار کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘جی ایس اے کو ڈیمز کے ساتھ ابتدائی طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کا ہمارے مختلف مقدمات کی پیروی جاری رکھنے سے کیا تعلق ہے جو امریکی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپٹ الیکشن کے لیے ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پوری رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کبھی بھی جعلی رائے شماری کا اعتراف نہیں کریں گے’۔
What does GSA being allowed to preliminarily work with the Dems have to do with continuing to pursue our various cases on what will go down as the most corrupt election in American political history? We are moving full speed ahead. Will never concede to fake ballots & “Dominion”.
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) November 24, 2020
امریکا میں قانون سازوں کو ہر دو سال بعد دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹرمپ کے بہت بڑے ووٹ بینک کا مطلب ہے کہ آنے والے انتخابات میں انہیں ان کی حمایت کی ضرورت رہے گی۔
