بھارت کی بے حسی، سمندر میں پھنسے20 روہنگیامہاجرجاں بحق

بھارتی حکومت کی بےحسی کے سبب روہنگیا کے مہاجرین کی کشتی کھلے سمندر میں 25 روز سے پھنسی ہوئی ہے، جہاں کھانا اور پانی ختم ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جزیرے انڈمان کے قریب روہنگیا کے مہاجرین کی ایک کشتی گزشتہ 25 روز سے پھنسی ہوئی ہے جس میں 100 سے زائد لوگ سوار ہیں۔بھارت کی جانب سے کشتی کو ساحل پر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے مہاجرین سخت مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے تقریباً 20 کے قریب بھوک ، پیاس اور ڈوب کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مہاجرین کی اس کشتی تک پانچ بھارتی بحری تک پہنچے مگر انہوں نے مشکل میں پھنسے افراد کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی انہیں ساحل پر آنے کی اجازت دی،میانمار اور روہنگیا کے مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضا کار نے بتایا کہ ’ بھارت کے بھیانک اور اشتعال انگیز رویے کی وجہ سے اب تک بیس مہاجرین جاں بحق ہوچکے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں پناہ گزینوں کے حقوق کی وکالت کرنے والی ایک کارکن پریالی سور نے الجزیرہ کو بتایا کہ کشتی کی صورت حال “بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے، مرنے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ناامیدی کی وجہ سے سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کرلی کیونکہ انہیں سمندر میں پھنسے ہوئے 25 دن سے زائد ہوگئے ہیں۔
