بھنگ کی کاشت سے معیشت سنبھالنے کا بھنگی منصوبہ

https://youtu.be/uo507tPmlWw
پاکستانی عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کی چکی میں پیسنے والی عمران حکومت نے بالاخر ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر وسیع تر قومی مفاد میں بھنگیوں کی توپ چلاتے ہوئے بھنگ کی کاشت کے ایک بڑے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا یے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مرغیاں، بکریاں اور کٹے پال کر معیشت سنوارنے کے منصوبے بنانے والے کپتان کے ویژن کا اختتام اب بھنگ کی کاشت سے ملکی قسمت سنوارنے کے بھنگ بھرے خواب پر ہوا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے عین مطابق بھنگ کی کاشت کے منصوبے کا افتتاح کرنے والے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز کے مطابق اس پراجیکٹ کو ’ہیمپ ولیو چین ڈویلوپمنٹ پروگرام 2021‘ کا نام دیا گیا ہے۔ منصوبے کی سرکاری دستاویز کے مطابق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان کونسل برائے سائنٹیفک اور انڈسٹریل ریسرچ کا پروگرام صنعتی، طبی اور سائنٹفک مقاصد کے لیے ہے۔ منصوبے کے تحت بھنگ کی کاشت، ڈیزائننگ، پراسیسنگ، اور ریفائننگ کی جائے گی اور سرکاری زمین سے حاصل ہونے والی بھنگ کی فصل صنعتی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان کو توقع ہے کہ بھنگ کی کاشت سے مقامی کاشتکاروں کو 400 ارب ڈالر کی عالمی مارکیٹ تک رسائی ملنے کے ساتھ ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔

تاہم اردو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے بھنگ کاشت کر کے ملکی معیشت سنبھالنے کا منصوبہ تنقید اور مذاق کی زد میں ہے۔ شہزاد اقبال نامی ایک صارف نے لکھا ’اب ہم پی ٹی وی نیوز پر کچھ یوں سنا کریں گے: بھنگی کاشت کاروں کے نام، وزیراعظم کا اہم پیغام۔‘ سہیل اختر نامی صارف کو تو امتحانی پرچوں کی بھی فکر پڑگئی۔ انہوں نے لکھا کہ پیپروں میں ایسے سوالات آئیں گے ’سوال نمبر 4: پاکستان میں بھنگ کی کاشت کے عظیم منصوبے کی بنیاد کس نے اور کب رکھی؟‘ ایک اور صارف ندیم اقبال نے لکھا کہ ‘بھنگیوں کی توپ کے لیے مشہور لاہور شہر کے پرانے باسی عمران خان نے بالآخر بھنگ کے ذریعے ملکی معیشت سنوارنے کا انوکھا حل ڈھونڈ ہی لیا۔ اسے کہتے ہیں ویژن اور تخیل کی پرواز۔

بھنگ کے حکومتی منصوبے پر طنز کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی رہنما حنا پرویز بٹ نے اسے پی ٹی آئی حکومت کا واحد ’کامیاب‘ منصوبہ قرار دیا۔ تاہم وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے اس منصوبے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھنگ کا پودا لباس، کاسمیٹکس، پرنٹر کی روشنائی، لکڑی کے حفاظتی سامان، ڈیٹرجنٹ، صابن اور روشنی کے لیے استعمال ہونے والا تیل بنانے کے کام بھی آتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ بھنگ کی کاشت حکومت کی نگرانی میں ہوگی جبکہ نجی شعبے کو اس منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شبلی کا کہنا ہے بھنگ کی کاشت سے اگلے تین سال میں پاکستان ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ بھنگ کی کاشت کے لیے پشاور، جہلم اور چکوال کے زرعی علاقوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

بتایا گیا یے کہ کراچی یونیورسٹی میں قائم ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز نے تحقیق کے بعد بھنگ کی کاشت کے لیے تین علاقوں کی نشاندہی کی تھی جن میں مری ایکسپریس وے سے ملحقہ علاقہ موضع لوکوٹ، صوبہ خیبر پختونخوا کا ضلع ہری پور اور سندھ کے ضلع ٹھٹہ کا علاقہ میرپور ساکرو شامل ہے۔ حکومت کا موقف یے کہ بھنگ کینسر سمیت ان دیگر بیماریوں کی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہوگی جن میں مریض شدید درد کے شکار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ چین میں 40 ہزار ایکڑ پر بھنگ کاشت ہو رہی ہے جبکہ کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ پر بھنگ کاشت کی جا رہی ہے لہٰذا پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بھنگ کی کاشت کا بزنس 25 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بھنگ ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی استعمال ہوگی کیونکہ کپاس کی کاشت کم ہو رہی ہے، اس لیے بھنگ کو اس کے متبادل کے طور استعمال کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بھنگ کی سرکاری سطح پر کاشت سے ملک میں بھنگیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ بھنگ کے پودے میں سینکڑوں کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جن میں سے کچھ سرور کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، لہازا مہذب ممالک میں اسے خطرناک نشہ آور مواد قرار دے کر اس پر تحقیق کا دائرہ محدود کیا جا رہا ہے۔

Back to top button