نیب چیئرمین کی توسیع سے اپوزیشن الزامات کی تصدیق


کپتان حکومت کی جانب سے نیب کے متنازعہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے توسیع دینے کے ارادے نے اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کو تقویت فراہم کی ہے کہ نیب چیئرمین حکومت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکومت نےاپوزیشن کے تمام تر تحفظات، اعتراضات اور احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب قوانین میں ترامیم کرکے ساکھ کے بحران کا شکار چیئرمین نیب کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت قانون نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کو توسیع دینےکا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کا متن وزیراعظم کی منظوری کے بعد آج ہی صدر مملکت کو پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے تحت جاوید اقبال نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی تک کام کرتے رہیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نئے نیب چیئرمین کے نام پر مشاورت نہ کرنے کا بنیادی مقصد حکومتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے والے جسٹس جاوید اقبال کو انکے عہدے پر برقرار رکھنا ہے تاکہ وہ حکومتی منشا کے مطابق اپوزیشن قیادت کے خلاف احتساب کا ڈنڈا گھماتے رہیں۔

خیال رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت آٹھ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کی جانب سے ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع کی تجویز کو متفقہ طور پر مسترد کر چکی ہیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ جاوید اقبال نے اپنے چار سالہ دور میں کپتان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر صرف اپوزیشن رہنماؤں کا احتساب کیا ہے لہذا انہیں توسیع دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اسکے علاوہ چیئرمین نیب کی زائد العمری کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ان کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیوز ہیں جن کی بنیاد پر انکے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر ہو چکا ہے جو کہ زیر سماعت ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ان ویڈیوز کی بنیاد پر حکومت جسٹس جاوید اقبال کو اپوزیشن کی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات دائر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نیب چئیرمین کی توسیع کے مسودے پر کام کر رہے ہیں جو وزیر اعظم کو بھیجا جائے گا اور عمران خان ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔ وزارت قانون قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس پیش کرے گی جو صدر کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ آرڈیننس اطلاق کے بعد قانون بن جائے گا اور کپتان حکومت کے لیے جاوید اقبال کو توسیع دینے کا راستہ صاف ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگر وزیر اعظم نیب چئیرمین جاوید اقبال کو توسیع دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ‘این اے او’ یعنی نیشنل اکاؤنٹبلٹی آرڈیننس کے سیکشن 6 کے ذیلی سیکشن ‘بی’ میں ترمیم کی جائے گی۔ اس وقت سیکشن 6 کے تحت چیئرمین نیب کی چار سالہ مدت ناقابل توسیع ہے۔اس لیے مسودے میں تجویز دی جائے گی کہ سیکشن 6 کے ذیلی سیکشن ‘بی’ کی ٹرم ‘ناقابل توسیع’ کو ‘قابل توسیع’ سے تبدیل کردیا جائے تا کہ چیئرمین نیب کو توسیع دی جاسکے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین نیب کے تقرر کے سلسلے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تا کہ اس بہانے سے موجودہ چیئرمین نیب کو برقرار رکھنے کا بہانہ مل سکے۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر اپنے قریبی رفقاء سے تجاویز مانگی تھیں جنہوں نے جاوید اقبال کو ہی عارضی توسیع دینے کا مشورہ دیا جس کے بعد چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ نیب قانون کے مطابق چئیرمین کا تقرر صرف وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہی ممکن ہے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب کا ملزم قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مشاورت سے انکار کر دیا تھا۔ اس معاملے پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب کیا وزیراعظم ملزم سے پوچھیں گے کہ اس کی تفتیش کون کرے گا۔

دوسری جانب شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے یاد دلایا ہے کہ عمران خان خود بھی نیب کے ملزم ہیں لہذا اس اصول کے تحت تو ان کے پاس بھی نئے نیب چیئرمین کو توسیع دینے یا نامزد کرنے کا اختیار نہیں۔ شہباز کے قریبی ذرائع نے یاد دلایا کہ نیب ریکارڈ میں وزیر اعظم عمران خان پر خیبر پختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹر کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ریفرنس کے مطابق عمران نے اپنے غیر سرکاری دوروں کے لیے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیے۔ الزام کے مطابق عمران خان نے دو سرکاری ہیلی کاپٹر 74 گھنٹے استعمال کیے۔ نیب ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2018 کو انتخابات جیتنے کے بعد اور وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے عمران خان اس کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں انھیں سوالنامہ دیا گیا تھا جسکا انکی جانب سے تین برس گزر جانے کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔ لہازا عمران خان کے خلاف نیب ریفرنس اب بھی تحقیقات کے مرحلے میں ہی ہے۔

Back to top button