بینکوں کے اہلکار ہی اکاونٹ ہولڈرز کو لوٹنے لگے؟

ملک میں آن لائن ہراسمنٹ، فراڈ اور بلیک میلنگ کی شکایات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کرونا وائرس کی وباء کے دوران ہیکرز نے مختلف بینکوں کےصارفین کو نشانے پر رکھتے ہوئے مالی مراعات، قرض، اقتصادی پیکج اور مستند معلومات کا جھانسہ دے کر لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ بینک صارفین کے ساتھ ہونے والے مالی فراڈ میں مختلف بینکوں کے کال سینٹر آفیسرز کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرونا وباء کے دوران جعلساز مافیا متحرک ہو گیا ہے اور غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت ان کی جمع پونجی سے محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ بینک صارفین کے ساتھ ہونے والے مالی فراڈ میں جہاں فراڈیوں کو بینکوں کے اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کی آشیرباد حاصل ہے وہیں بینکوں کے کال سینٹر ایجنٹ بھی جعلسازوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ دھوکہ باز عناصر بینک کال سینٹر ایجنٹس کی ملی بھگت سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ جعلسازوں کی طرف سے مالی نقصان کا سامنا کرنے والے صارفین کے مطابق سب سے پہلے بنک کے رجسٹرڈ نمبر سے بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو کوئی ٹرانزیکشن یا پاسورڈ تبدیلی کے حوالے سے میسج موصول ہوتا ہے کہ ان کی درخواست پر آپ کا بینک موبائل اپلیکیشن یا ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا پن تبدیل کیا جا رہا ہے۔ میسج آنے کے فوری بعد بینک کے رجسٹرڈ ہیلپ لائن نمبر سے بینک صارف کو کال کی جاتی ہے اور کال کرنے والا اپنا تعارف متعلقہ بینک کے آفیسر کی حیثیت سے کرواتا ہے اور صارف کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کا اے ٹی ایم ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے جب تک آپ اپنے کوائف بارے انھیں آگاہ نہیں کرتے یا اپنا پاسورڈ ری سیٹ نہیں کراتے آپ کا کارڈ بلاک رہے گا۔ کال کے دوران صارف کا یقین پختہ کرنے کیلئے صارف کا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر معلومات اسے بتائی جاتی ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ آپ تصدیق کر لیں آپ کو بینک کے رجسٹرڈ نمبر سے ہی کال کی جا رہی ہے جہاں سے فراڈ ہونا نا ممکن ہے۔ بعدازاں پریشانی کے شکار بینک صارف سے اس کی تمام خفیہ معلومات اور پاسورڈ لے کر اسے اس کی تمام جمع پونجی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی صارف اس دوران زیادہ سمجھداری دکھاتا ہے تو اسے اس کا کارڈ پرماننٹ بلاک کرنے کی دھمکی دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ تاہم لٹنے کے بعد یا فوری طور پر بینک کی متعلقہ ہیلپ لائن پر کال کرنے پر آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ لٹ چکے ہیں اور کال کرنے والے کا بینک سے کوئی تعلق نہیں حالانکہ حقائق یہ ہیں کہ بنک انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی آشیرباد اور تعاون کے بغیر بنک کی ہیلپ لائن سے صارفین کو کال کرنا نا ممکن ہے کیونکہ بنک کی رجسٹرڈ ہیلپ لائن سے کی جانے والی تمام کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں اور ان کا ڈیٹا کسی بھی عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس طرح کے فراڈ کے حوالے سے نہ بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کو شکایت کی جا سکتی ہے بلکہ بینکنگ محتسب اور ایف آئی اے سائبر کرائم میں بھی ایسی شکایات کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بینکوں کے کال سینٹر ایجنٹس اور جعلسازوں کے گٹھ جوڑ سے سینکڑوں افراد لٹ چکے ہیں۔ بینک صارفین کو کسی بھی صورت میں کسی بھی غیر متلعقہ شخص کبھی بھی اپنے اے ٹی ایم ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کا پاسورڈ یا بینک اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات ہرگز نہیں دینی چاہییں کیونکہ قانونی طور پر کوئی بھی بینک آفیسر صارف سے اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات اور پاسورڈ دریافت کرنے کا مجاز نہیں۔
