ڈبلیو ایچ او کی دو ہفتے سخت، دو ہفتے نرم لاک ڈاؤن کی سفارش

ڈبلیو ایچ او نے کورونا کے بڑھتے مریضوں اور اموات پر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ کورونا کی وبا پاکستان کے تمام اضلاع میں پہنچ چکی ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا. عالمی ادارہ صحت نے کم ازکم 2 ہفتے مکمل سخت لاک ڈاؤن جبکہ دو ہفتے کے نرم لاک ڈاؤن کی سفارش کی ہے.
پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ملک بھر میں یکم اور 22 مئی کو پابندیاں اس وقت اٹھائی گئیں جب ملک اس فیصلے کے لیے بنیادی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تھا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پنجاب میں کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات پرخطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ اور کم ازکم 2 ہفتے مکمل سخت لاک ڈاؤن جبکہ دو ہفتے کے نرم لاک ڈاؤن کی ضرورت پر زور دیا ہے.
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں مکمل نرمی سے گریز کرے کیونکہ وہ ان 6 شرائط (نکات) میں سے کسی ایک پر بھی پورا نہیں کرتا جو احتیاطی تدابیر سے متعلق ہیں۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو لکھے گئے مراسلے میں ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی کہ ملک کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن‘ نافذ کرے۔7 جون کو لکھے گئے مراسلے میں پاکستان کے ڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا کہ کورونا وائرس ملک کے تقریباً تمام اضلاع میں پھیل چکا ہے اور بڑے شہروں میں کیسز کی اکثریت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’12 اپریل کو حکومت نے سماجی دوری، نقل مکانی پر پابندی، اسکولوں اور کاروباری اداروں کی بندش، بین الاقوامی سفری پابندی اور وائرس سے متاثرہ علاقوں پر پابندی جیسے اقدامات لیے‘۔ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے مراسلے میں لکھا کہ یکم مئی کو پابندیوں میں جزوی نرمی اور اس کے بعد 22 مئی کو مکمل طور پر نرمی دی گئی جس کی وجہ سے کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے پابندی ختم کرنے والے ممالک کے لیے 6 نکاتی گائیڈلائنز جاری کی تھیں۔صحت کے نظام بہتر ہو کہ جہاں ’طبی نموں کا ٹسیٹ، تشخیص، قرنطینہ اورعلاج‘ فراہم کیا جا سکتا ہو۔جہاں کیسز سب سے زیادہ تھے اب وہ خطرہ کم ہوچکا ہو۔اسکولوں، جائے کار اور دیگر اہم مقامات پر حفاظتی اقدامات مکمل ہوں۔کیسز کے درآمد کا خطرہ سبنھالا چکا ہو۔کمیونٹی میں لوگ وائرس سے متعلق مکمل آگاہی رکھتے ہوں اور اس کے عدم پھیلاؤ میں فعال ہوں اور ایک نئے معمول کے تحت زندگی گزارنے میں بااختیار ہوں۔مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ اب تک پاکستان نے ان میں سے کسی بھی ایک گائیڈ لائن پرپورا نہیں اترتا۔
نمائندہ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ کہ کیسز کی شرح زیادہ ہے، نگرانی کا نظام کمزور ہے، مریضوں کو طبی سہولت کی فراہمی محدود ہے اور حالات کے تناظر میں شہریوں کے رویے میں مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا کہ ان مشکل فیصلوں کے لیے کووڈ 19 ریسپانز میں متوازن رکھنے کی ضرورت ہوگی جس کے تحت متاثرہ علاقوں میں وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن بھی شامل ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 50 ہزار سے زائد اور صحت عامہ سے متعلق اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’دو ہفتے نرمی، دوہفتے لاک ڈاؤن‘ والی حکمت عملی اپنائے جس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں 71لاکھ سے زائد افراد کو متاثر اور 4 لاکھ سے زیادہ اموات کا سبب بننے والا مہلک نوول کورونا وائرس پاکستان میں بھی تشویشناک صورتحال اختیار کر رہا ہے اور یومیہ ہزاروں کی تعداد میں کیسز اور درجنوں اموات ہورہی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ابھی تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ 10 ہزار 65 مصدقہ کیسز ہیں جس میں سے 2 ہزار 189 کا انتقال ہوچکا ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری جبکہ پہلی موت 18 مارچ کو سامنے آئی تھی جس کے بعد اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے اور پابندیاں اور لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جو بعد ازاں نرم کردیا گیا اور اب تقریباً بعض شعبوں کے علاوہ تمام کاروبار کھلا ہوا ہے۔
