تباہ حال معیشت نے ڈاٹسن کار منصوبہ بھی ناکام کر دیا

پاکستان میں آٹوموبائل صنعت کی خراب صورتحال کے باعث ڈاٹسن کار منصوبے کا مستقبل کھٹائی میں پڑتا دکھائی دینے لگا۔
گندھارا نسان لمیٹڈ (جی این ایل) کو نسان موٹر کمپنی لمیٹڈ (این ایم سی ایل) کی جانب سے پارٹس کی لوکلائزیشن سے متعلق کوئی روڈ میپ موصول نہ ہونے پر منصوبہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایک) میں جمع کروائی گئی منصوبے کی پیش رفت رپورٹ میں جی این ایل نے کہا کہ کمپنی نے این ایم سی ایل کے ساتھ مل کر موثر طریقے سے زیادہ سے زیادہ لوکلائزیشن یقینی بنانے کے لیے بہت زیادہ وقت اور وسائل کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ این ایم سی ایل کی حالیہ کاروباری حکمت عملی، خاص طور پر ڈاٹسن کے شعبے سے متعلق انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے، لہٰذا یہ باور کرانا اہم ہے کہ انڈونیشیا جو ڈاٹسن کمپلیٹی ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کے لیے مرکزی پلانٹ ہے وہ پائیدار ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ جی این ایل نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم ابھی بھی ڈاٹسن پارٹس کی مسلسل اور ہموار فراہمی پر این ایم سی ایل کی تصدیق اور یقین دہائی کے منتظر ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ این ایم سی ایل سے واضح روڈ میپ موصول ہونے سے پہلے ہم جاری سرگرمیوں کو روک دیں۔ لہٰذا جب تک این ایم سی ایل اس منصوبے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتی، جی این ایل کو عملدرآمد کے لیے حتمی فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔
کمپنی نے پی ایس ایکس کو بتایا کہ براؤن فیلڈ حیثیت کی مراعات کو جانچتے ہوئے جی این ایل موجودہ آپریشن کی صلاحیت میں اضافے سے متعلق متوازری طور پر دیگر راستوں کی بھی تلاش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2019 میں جی این ایل نے کہا تھا کہ وہ ملک میں ڈاٹسن گاڑیوں کی اسمبلنگ کے منصوبے پر نظرثانی کر رہا کیونکہ اسے محسوس ہوا تھا کہ مروجہ غیرمستحکم معاشی صورتحال اور ایکسچینج ریٹس خاص طور پر اس سطح کی عدم استحکام کے دوران یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ منصوبے کے لیے اس حد تک جائیں۔
اس بارے میں جی این ایل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ منصوبے سے متعلق چیلنجز کے علاوہ مقامی معاشی حالات، خاص طور پر آٹوموبائل مارکیٹ کی صورتحال نے ہمیں منصوبے کے استحکام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ غیراطمینان بخش معاشی صورتحال، زیادہ شرح سود اور کمزور زرمبادلہ کے باعث کمپنی کو منصوبے کی ٹائم لائن کو ری پروگرام کرنا پڑا۔
اس سے قبل جی این ایل نے 2020 تک 1200 سی سی ڈاٹسن کراس لانچ کرنے اور پورٹ قاسم میں اپنے پلانٹ میں 1200 سی سی ڈاٹسن گو اور ڈاٹسن گو پلس کے آغاز کے لیے آئندہ 4 برسوں میں ساڑھے 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا تھا۔
اس کے علاوہ کمپنی نے یہ بھی منصوبہ بنایا تھا کہ اس کے آغاز کے پہلے 3 برسوں میں 30 فیصد سے زائد لوکلائزیشن حاصل کرلی جائے گی۔ تاہم کمپنی نے اکتوبر 2019 میں اسٹاک فائلنگ کے دوران کہا کہ مقامی مارکیٹ میں ماہرین اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے کچھ پارٹس کی لوکلائزیشن آیا ممکن نہیں یا اس میں بہت زیادہ وقت اور وسائل درکار ہوں گے۔
دوسری جانب ایم ایم سی ایل سی کے ڈی کٹس کے حصے کے طور پر درآمدات کے لیے عالمی مارکیٹ سے کم سے کم لاگت پر ان پارٹس کی تیاری کے آپشنز تلاش کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ جی این ایل کے پاس نئے آنے والوں کے لیے براؤن فیلڈ کی مراعات حاصل کرنے کے لیے 30 جون 2021 تک تمام بنیادی ضروریات پوری کرنے اور تجارتی پیداوار شروع کرنے کے لیے محدود وقت تھا۔
