ترمیمی ایکٹ آنے والے دنوں میں کیسے متنازعہ ہو سکتا ہے؟

آنے والے دنوں میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ میں کی جانے والی آئینی ترامیم پر تنازعہ کھڑا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس معاملے پر غلط قانون سازی کی ہے۔
ماہرین کا موقف ہے کہ آرمی چیف ایک آیئنی عہدہ ہے جس کی مدت ملازمت میں توسیع پر آیئن خاموش تھا لہذا سپریم کورٹ نے مدت ملازمت میں توسیع کے لیے گنجائش پیدا کرنے کے لیے حکومت کو بذریعہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرنے کی مہلت دی تھی اور اس مقصد کے لیے آیئنی ترمیم کرنا ضروری تھی۔ تاہم حکومت نے آئین میں ترمیم کی بجائے صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنا ہی مناسب جانا جس سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ لہذا آئینی اور قانونی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ہونے والی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلنج ہو جائے گی۔
پارلیمان میں منظور کیے گئے سروسز چیفس کی مدت معیاد میں توسیع کے حوالے سے بلز کے مسودے پر تنقید کرتے ہوئے معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں سروسز چیفس کے حوالے سے حالیہ ترامیم کے نتیجے میں سروسز چیفس کی دوبارہ تعیناتی یا ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے سلسلے میں صدر کو مزید صوابدیدی اختیار دے دئیے گئے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آرمی، نیوی، فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے موجود شق میں لفظ شیل (shall) یعنی کریں گے کی جگہ مے (may) یعنی کرسکتے ہیں، کا استعمال کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پاکستان آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کی شق 8 اے کہتی ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملک ایک جنرل کو 3 سال کی مدت کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کریں گے۔ تاہم آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے حوالے سے شق 8 بی میں کہا گیا کہ’اس ایکٹ یا اس وقت نافذ کسی بھی قانون میں شامل چیزوں کے باوجود صدر وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف آرمی اسٹاف کو 3 سال کی مدت کے لیے دوبارہ تعینات کرسکتے ہیں یا ان کی مدت ملازت میں 3 سال کی توسیع کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور پاکستان پیپلز پارٹی کےسابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بل کے حوالے سے کسی تنازع کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی آئینی دستاویز میں لفظ ’کرسکتے ہیں‘ ہمیشہ ’کریں گے‘ کے معنوں میں لیا جاتا ہے اور آرمی، نیوی، فضائیہ کے اصولوں میں ترامیم اور آئین میں کسی تضاد کی صورت میں آئین کو مقدم رکھا جائے گا۔
تاہم سلمان اکرم راجہ نے اس شق کی نشاندہی کی ہے جس کے تحت اس حوالے سے لیا گیا فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور کہا کہ مذکورہ شرط کو بھی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا. ترمیم میں ماتحت قانون کے ذریعے اس کا دائرہ کار طے نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 48 کے تحت وزیراعظم صدر کو خط لکھ کر مشورہ دینے کا پابند ہے اس لیے صدر کے حق میں کوئی صوابدید پیدا نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے لیے تقرری کرنے والی اتھارٹی کے ذریعے صوابدید کا استعمال کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
سلمان راجہ کے مطابق اس بل نے دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو صدر کے صوابدیدی اختیار کے دائرہ کار میں صدارتی فعل بنادیا ہے، یہ بل دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو قومی سلامتی اور دیگر ضروریات کی موجودگی سے منسلک کرتا ہے، یہ کس طرح سپریم کورٹ کی اس پٹیشن یا رٹ کو خارج کرسکتا ہے جس میں کہا گیا کہ صوابدید کو معروضی حقائق کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سلمان اکرم راجہ کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ اپنے جوڈیشل ریویو کے اختیارکو محدود کرنے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دے گی۔
