ترکی میں مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے نغمہ ریلیز

ترکی میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نشانہ بننے والے عوام سے اظہار یکجہتی کےلیے نغمہ ریلیز کردیا گیا۔
‘میرا نام کشمیر ہے’ کے نام سے یہ نغمہ انگریزی زبان میں دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا ہے جس کی ویڈیو میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کو آزادی مانگتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ نغمہ تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔
ترکی کی حکومت، سیاستدان اور عوام تو کئی سال سے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے آئے ہیں اور ترک حکومت کا وادی کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی طرح واضح مؤقف بھی رہا ہے۔ تاہم اب پہلی بار ترک موسیقاروں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک گانا جاری کردیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان اور وادی کشمیر سمیت کئی ممالک میں مقبول ہوگیا۔
انگریزی زبان میں جاری کیے گئے گانے میں مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر قابض بھارتی فوج کے مظالم کی ویڈیوز کو دکھایا گیا ہے۔ گانے میں معروف گلوکارہ ڈیلا مائلز نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے، جو حال ہی میں جرمنی کو چھوڑ کر ترکی منتقل ہوئی تھیں۔ گانے کی موسیقی انگریزی زبان کے ترک پروفیسر اور معروف موسیقار ترگے ایویرن نے دی ہیں اور انہوں نے گانے کی شاعری بھی لکھی۔
گانے کو سب سے پہلے ٹوئٹر پر ترک رکن پارلیمنٹ اور حکمران جماعت کے سیاستدان عزیز ببوشو نے شیئر کیا تھا، جس کے بعد گانا دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے طور پر ریلیز کیا گیا مذکورہ گانا اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد گانا ہے۔ گانے کی شاعری، موسیقی اور گلوکارہ کی درد بھری آواز نے شائقین کا دل جیت لیے اور گانا مقبوضہ کشمیر، پاکستان، ترکی اور بھارت سمیت کئی ممالک میں وائرل ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button