ترک صدرکا دورہ پاکستان،استقبال کی تمام تیاریاں مکمل

ترک صدر طیب اردوان دو روزہ دورے پر آج رات اسلام آباد پہنچیں گے، وزیراعظم عمران خان نور خان ایئربیس پر ترک صدر کا استقبال کریں گے۔ ترک صدر طیب اردوان کے دورہ پاکستان کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ترک صدرطیب اردوان کی صدر، وزیراعظم سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ طیب اردوان 14 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے، اعلی سطحیٰ وفد بھی ترک صدر کے ہمراہ پاکستان آئیگا، ترک ایڈوانس سیکورٹی ٹیم کی مشاورت سے سیکورٹی پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔طیب اردوان کے استقبال کے لیے سڑکوں پر بینرز بھی آویزاں کر دئیے گئے ہیں جبکہ پاکستان اور ترکی کے پرچم بھی لگائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک اور پلان آف ایکشن پر دستخط کیے جائیں گے اس حوالے سے وزارت اقتصادی امور نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں. تعلیم،دفاع اور اقتصادی شعبوں میں باہمی تعاون کے دس سے زائد معاہدوں پربھی دستخط متوقع ہیں، رجب طیب اردوان اسلام آباد میں پاک ترک اعلی سطح کی تزویراتی تعاون کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت ترک صدر طیب اردوان اور عمران خان کی جانب سے مشترکہ طور پر کئے جانے کا امکان ہے،پاک ترک اعلی سطح کی تزاویراتی تعاون کونسل کے اجلاس میں دو طرفہ تعاون مزیدفروغ پائیگا۔ ذرائع کے مطابق کونسل اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک کی رہنمائی اور نگرانی کریگی،ترک صدر کی آمد کے دوران معاہدے کو حتمی شکل دی جائیگی۔ ترک صدر کے دورے کے دوران باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے تعاون کے مزید شعبوں کی تلاش بھی کی جائیگی،ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی ہو گا،ترک صدر کے ہمراہ وفد میں سرمایہ کار اورکاروباری شخصیات بھی پاکستان پہنچیں گی،ترک صدر پاکستان میں سرمایہ کاری سمیت کئی منصوبوں کی یادداشتی مفاہمت پربھی دستخط کریں گے،دورہ پاکستان کے دوران ترک صدر وزیراعظم عمران خان،صدر مملکت عارف علوی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ملاقاتیں کریں گے،ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون کے فروغ، دفاعی تعاون میں بہتری،افغانستان میں قیام امن، مشرق وسطیٰ کی صورتحال،سمیت باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان دورہ پاکستان کے دوران 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی سفارتی حمایت اور مدد کی ہے۔اس کے علاوہ ترکی، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کا بھرپور حامی بھی ہے، جس نے ہمیشہ ببانگ دہل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔
