ترین کے خلاف شوگر سکینڈل کی دوبارہ انکوائری کا فیصلہ

شوگر سکینڈل میں ملوث تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کے خلاف چینی اسکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کی برطرفی کے بعد اب وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اس کیس کی ازسر نو تحقیقات کروانے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی سابق اے ٹی ایم کا ایک بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی اسکینڈل انکوائری ٹیم کے سربراہ ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر رضوان کو ہٹانے کے بعد شوگر سکینڈل کی ایف آئی آر میں نامزد افراد کے خلاف کارروائی عملی طور پر رک گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک محمد رضوان کو ان کی برطرفی سے متعلق تحریری حکم نہیں ملا لیکن انہیں اوپر سے زبانی طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ چینی اسکینڈل کی تحقیقات سے الگ کردیے گئے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے ابھی تک تحقیقاتی ٹیم کا نیا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا جیسا کہ رپورٹ ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ابوبکر خدا بخش نے ان خبروں کی تردید کی کہ انہیں نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ابوبکر نے بتایا کہ مجھے چینی اسکینڈل تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے۔ تاہم ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوبکر خدا بخش کو شوگر سکینڈل کی تحقیقات سونپے جانے کے واضح امکانات ہیں کیوں کہ وہ ادارے میں سب سے سینیئر آفیسر ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شوگر سکینڈل تحقیقاتی ٹیم کے نئے سربراہ ممکنہ طور پر اب تک کی گئی تحقیقات کا جائزہ لیں گے اور اس اسکینڈل کے کچھ پہلوؤں کی نئی تحقیقات کا آغاز کریں گے۔ یاد رہے کہ محمد رضوان کو انکے عہدے سے ہٹانا پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور ان کے گروپ میں شامل قانون سازوں کا بنیادی مطالبہ تھا۔ ان لوگوں نے 27 اپریل کو بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا کیا، بعدازاں راجہ ریاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور یقین دہانی کروائی ہے کہ ترین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی، تاہم بعد ازاں فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ عزم ہے کہ کرپشن میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی اور جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے حوالے سے اطلاعات بالکل غلط ہیں۔ دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر سکینڈل تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو ہٹانا، نئی تحقیقات کا آغاز کرنا یا اس معاملے میں سست روی دخھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچانے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین اپنی عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے 3 مئی کو عدالت میں پیش ہوں گے اور اگر حکومتی دباو نہ آیا تو ایف آئی اے مزید ثبوت پیش کر کے انکی ضمانت منسوخ کروانے کی کوشش کرے گی تاکہ انہیں گرفتار کیا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد رضوان نے نہ صرف جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین پر مقدمہ درج کیا بلکہ چینی اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف 5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کے الزامات میں ایف آئی آر بھی درج کی تھی۔ علاوہ ازیں ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے جنوبی پنجاب سے وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے خاندان کے افراد اور 2 میڈیا ہاؤسز کی شوگر ملوں پر بھی ہاتھ ڈالا تھا۔ محمد رضوان کی سربراہی میں ایف آئی اے کے تفتیش کاروں نے شوگر مافیا کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران ’قیاس آرائی پر مبنی قیمتوں کے تعین‘ کے ذریعے 110 ارب ڈالر کی غیر قانونی کمائی کا سراغ لگایا تھا۔ انکوائری کے مطابق ‘سٹہ مافیا نے ایک سال کے دوران ایکس مل قیمت میں 20 روپے فی کلوگرام فراڈ کیا تھا اور اب وہ رمضان میں اسے 110 روپے فی کلو تک لے جانے کی سازش کر رہے ہیں’۔
دوسری جانب شوگر اسکینڈل میں جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں درج الزامات کرمنل نوعیت کے نہیں ہیں اور یہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ان کے تمام کاروبار کا معائنہ کیا گیا تھا اور تفتیش کاروں کو کوئی غیر قانونی عمل نہیں نظر آیا تھا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر چینی بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم بنائی گئی تھی۔ اس ٹیم کی سربراہی پہلے ڈائریکٹر ایف آئی ڈاکٹر رضوان کے پاس تھی لیکن اس کی نگرانی ابوبکر خدا بخش ایڈیشنل ڈیریکٹر جنرل ایف آئی کر رہے تھے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اب اس جے آئی ٹی کی سربراہی باقاعدہ ابوبکر خدابخش کو سونپ جانے والی ہے۔
ویسے تو یہ دونوں افسران ہی ڈیپوٹیشن پر محکمہ پولیس سے ایف آئی اے میں تعینات ہوئے ہیں لیکن جب جے آئی ٹی کی جانب سے شوگر ملز مالکان سے متعلق چھان بین شروع ہوئی اور جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمات درج کیے تو میڈیا پر خبریں چلیں کہ شوگر جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کردیاگیا ہے۔ ابوبکر خدا بخش کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بطور پی ایس پی افیسرمحکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے، انکی زیادہ سروس پنجاب میں رہی۔ وہ محکمہ میں کافی بااصول اور فعال افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ یہاں سے لگایاجاسکتاہے کہ 2018میں جب پولیس مقابلہ میں ایک لڑکی ہلاک ہوئی تو انہیں جے آئی ٹی کا سربراہ بنایاگیا۔ انہوں نے جائزہ لے کر پولیس کو واقعہ میں ذمہ دار ٹھہرا دیا، پولیس حکام کے دباؤ پر انہیں بطور ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پولیس کے عہدے پر تبدیل کیاگیا تو دو دن بعد احکامات واپس ہوگئے۔
قصور میں جب بچوں سے زیادتی کا کیس سامنے آیا اس معاملہ کی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بھی انہیں ہی کمیٹی کا سربراہ بنایاگیا۔ اس کے بعد قصور میں ہی جب زینب نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیاگیا اور معاملہ ملکی سطح پر اٹھاتب بھی جے آئی ٹی کاسربراہ ابوبکر خدا بخش کو ہی بنایاگیاتھا۔ تاہم زینب کے والد نے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا۔ فیصل آباد میں جب احمدیوں کی مبینہ فائرنگ سے 13شہریوں کے قتل کا واقعہ پیش آیا تب اس کیس کی جے آئی ٹی کا سربراہ بھی انہیں بنایاگیاتھا۔ ڈی پی او خوشاب رہے ایک انکوائری میں وزیر اعلی شہباز شریف نے انہیں عہدے سے ہٹایاتھا۔ آر پی او شیخوپورہ بھی رہے۔ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اےتقرری کے بعد جب کچھ عرصہ پہلے پیٹرولیم بحران کا معاملہ ہوا تو اس کی تحقیق کے لیے بننے والی کمیٹی کی سربراہی کے لیے بھی ابوبکر خدا بخش کو نامزد کیاگیاتھا۔
اسی طرح شوگر جے آئی ٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد رضوان کو بھی پولیس میں بطور پی ایس پی افیسر تقرری ملی۔ ان کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ وہ ایس ایس پی آپریشن لاہور، ڈی پی او لیہ، ڈی پی او مظفر گرھ،ڈی پی او راجن پور رہے۔ جب سکندر نامی شخص اسلحہ لے کر روڑ پر نکلا اس وقت بھی ڈاکٹر محمد رضوان ایس ایس پی اسلام آباد تھے۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ بطور ڈائریکٹر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی میں کر دیاگیا اور انہیں شوگر جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
