غداری کا میڈل لینے والے سیاستدانوں کی داستان

نواز لیگ کے دبنگ رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کی غداری کے بھونٖڈے الزام پر گرفتاری کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ماضی میں بھی درجنوں سیاسی رہنماوں پر غداری کے الزامات لگے مگر سب کلیئر ہو گئے اور فوجی آمر مطلق جنرل مشرف کے سوا پاکستان کی کسی عدالت نے کسی کو غدار ڈیکلیئر کر کے سزائے موت نہیں سنائی۔ یہ اور بات کے بھگوڑا کمانڈو سزا سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر دبئی فرار ہو گیا۔
یاد رہے کہ 27 اپریل کو لاہور کی سیشن عدالت سے مسلم لیگی رہنما جاوید لطیف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ چند ہفتے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کے الزام میں میاں جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کی جان کو درپیش خطرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوا تو وہ آصف زرداری کی طرح بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے اور ایسا۔کرنے والوں سے انتقام لیں گے۔
چنانچہ ان کی اس گفتگو کو بغاوت کے مترادف قرار دے دیا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم وہ بغاوت کے مقدمہ میں گرفتار ہونے والے پہلے سیاست دان یا پاکستانی نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں سیاسی عدم برداشت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اپوزیشن بینچز سے تعلق رکھنے والا جو رہنما جو اختلاف رائے کا ظہار کرے اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے تاہم ایسے مقدمات آج تک کسی عدالت میں ثابت نہیں کئے جاسکے۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صرف ایک شخص ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے سرٹیفائیڈ غدار قرار دے کر سزائے موت سنائی لیکن اس کے سرپرستوں نے آج دن تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا اور خو دکو نڈر کمانڈو قرار دینے والا غدار مشرف دبئی میں زندگی کے دن پورے کررہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق غیر جمہوری ماحول کی وجہ سے پاکستان میں اپوزیشن کے ہر فرد کو غدار قرار دیا جا چکا ہے۔ حالیہ دنوں ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کی گرفتاری اس ضمن میں کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں غداری یا بغاوت کے الزامات کے تحت عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان اور نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما خان عبدالولی خان، عطا اللہ مینگل اور غوث بخش بزنجو گرفتار ہو چکے ہیں۔ اسی کی دہائی میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی کئی ایسی گرفتاریاں سامنے آچکی ہیں۔ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں ایک دوسرے پر الزامات تو لگائے گئے مگر غداری کے مقدمے قائم کرکے گرفتاری کسی کی عمل میں نہیں آئی۔
ایسی پہلی اہم گرفتاری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں آئی جب اکتوبر 2003 میں اس وقت کے اپوزیشن اتحاد اے آر ڈی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو فوج میں بغاوت پھیلانے کے الزام میں مقدمے کے اندراج کے بعد پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔جاوید ہاشمی قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر بھی تھے۔ وہ اس جرم میں طویل جیل کاٹنے کے بعد اگست 2007 کو سپریم کورٹ کے حکم پر رہا ہوئے تھے۔ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے ایک متنازع تقریر کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ان کی تقاریر اور بیانات کی کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی اور انسداد دھشت گردی کی عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔الطاف حسین کو انسداد دھشت گردی کی عدالت نے تشدد پر اکسانے اور ریاست کے خلاف تقاریر پر 81 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم چونکہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں اس لیے سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
دوسری طرف گذشتہ سال اکتوبر میں نواز شریف، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایک جلسے میں کی جانے والی تقاریر کی بنا پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم بعد میں اس مقدمے سے نواز شریف کے علاوہ باقی نام خارج کر دیے گئے تھے۔ نواز شریف چونکہ علاج کے لیے برطانیہ میں مقیم ہیں اس لیے ان کے خلاف مزید کاروائی عمل میں نہیں لا جا سکی۔ اسی طرح گذشتہ سال دسمبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ علی وزیر کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں بغاوت اور غداری کی دفعات شامل کی گئیں۔ایف آئی آر کے مطابق علی وزیر پر الزام لگایا کہ سہراب گوٹھ جلسے میں ان سمیت دیگر افراد نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور جلسے میں نعرے بازی بھی کی۔ اس سے قبل دسمبر 2020 میں پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کو بھی بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے پاکستان میں غداری کے مقدمات اور گرفتاریوں کی روایت پرانی ہے مگر حالیہ تاریخ میں زیادہ تر مقدمات عدالتوں میں ثابت نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبانی الزامات لگا دینے یا مقدمہ بنا دینے سے کوئی انسان غدار نہیں ہو جاتا جب تک کہ عدالت میں اس پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق پاکستان میں اپوزیشن کے تقریباً ہر سیاست دان کو غدار قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ مختلف مسائل پر لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے تاہم جس کی رائے پسند نہیں آتی اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے جو کہ ایک غیر جمہوری رویہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button