کیا ترین گروپ کو صرف بجٹ پاس ہونے تک رام رکھا جائے گا؟

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ 27 اپریل کے روز بنی گالہ میں جہانگیر ترین گروپ کے 30 ناراض اراکین اسمبلی کی ملاقات کے بعد سے دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ ایک جانب ترین گروپ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کروائی کہ جہانگیر ترین کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی جبکہ دوسری جانب حکومتی سائیڈ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کے دوران ترین گروپ پر واضح کیا کہ وہ کرپشن کے معاملے میں کسی قسم کا دباؤ نہیں لیں گے اور جو بھی شوگر سکینڈل میں قصور وار ثابت ہوا اس کو سزا ملے گی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترین گروپ کے اراکین اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات سے ایک روز پہلے ہی شوگر سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد رضوان کو انکے عہدے سے ہٹا دیا گیا جو کہ ترین گروپ کا ایک بنیادی مطالبہ تھا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وفاقی اور صوبائی بجٹ پاس کروانے کے لیے کپتان حکومت کو ترین گروپ کے اراکین اسمبلی کی اشد ضرورت ہے لہٰذا تب ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے حامی ارکان پارلیمنٹ نے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کی سربراہی میں عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انھیں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور اس سلسلے میں مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے منفی کردار کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 33 تھی، جن میں قومی اسمبلی کے 11 اور پنجاب اسمبلی کے 22 ارکان شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان میں چھ صوبائی وزیر اور ایک مشیر بھی شامل تھے۔ ان اراکین اسمبلی نے وزیراعظم کو ملاقات کے لیے ایک خط لکھا تھا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ان لوگوں سے کبھی ملاقات نہیں کرتے لیکن چونکہ وفاقی اور پنجاب میں ان کی حکومتیں چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہیں اس لیے فارورڈ بلاک بننے کے خطرات کے پیش نظر انہیں ملاقات کرنا پڑ گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی نظام میں وزیر اعظم کے عالی وقار منصب پر فائز کوئی بھی پارٹی لیڈر کسی ایک معاملہ پر ناراضی کا اظہار کرنے والے ارکان اسمبلی سے براہ راست ملاقات نہیں کرتا بلکہ بالواسطہ طریقے سے ان کی شکایات دور کرنے یا ان کی سرزنش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ ملاقات عمران خان کی سیاسی مجبوری و لاچاری کو نمایاں کرتی ہے جو ان کے باقی ماندہ دور حکومت میں فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوگی۔ پہلے اڑھائی برس نعروں اور بے عملی میں صرف کرنے کے بعد اب عمران خان کی خواہش و کوشش ہے کہ کسی بھی طرح انتخابات سے پہلے ملکی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا کیے جائیں۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کی سرکردگی میں سرکاری مصارف میں اضافہ کے ذریعے قیمتوں میں کمی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تاہم اگر پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے باغی گروپ وزیر اعظم پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دیں گے تو عمران خان کی اتھارٹی کے بارے میں شدید شبہات پیدا ہوں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پہلے ہی یہ تاثر عام ہے کہ تحریک انصاف ’پراکسی حکمران‘ ہے، اور اصل اختیار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔
ویسے بھی وزیر اعظم کا ناراض ارکان اسمبلی سے ملاقات پر راضی ہونا بجائے خود ناکام حکومت کی علامت ہے۔ اس گروپ کی تعداد اتنی بڑی ہے کہ جو پنجاب کے علاوہ مرکز میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ الٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس گروپ میں اسمبلیوں کے وہ ارکان شامل ہیں جو علی الاعلان جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے عدالت جاتے رہے ہیں اور ان کی دعوتوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ لیکن ترین گروپ کا دعوی ہے کہ تحریک انصاف میں عمران سے ناراض ارکان اسمبلی کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔اور بہت سے ارکان ایسے ہیں جو اس وقت مصلحتاً سامنے نہیں آنا چاہتے اور اپنی اصل ’وفاداری‘ ظاہر کرنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے حکومت کی صفوں میں پڑنے والی دراڑوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسی مجبوری نے عمران خان کو ناراض ارکان سے ملنے اور خوشی خوشی ان کی شکایات سن کر انہیں حل کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کیا۔ حالانکہ عمران خا ن مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کی وہ کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور چوروں اور لٹیروں کو این آر او دینے کی بجائے یکساں احتساب کریں گے۔ لیکن عمران خان کی ناراض ترین گروپ سے ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ وقت آنے پر ان جیسا وزیر اعظم بھی بلیک میل ہو جاتا ہے۔
ملاقات کے بعد تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور ترین کے قریبی ساتھی راجا ریاض نے کہا کہ وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ناانصافی نہیں ہوگی اور ہمیں ان پر یقین ہے۔ راجا ریاض نے کہا کہ ہم لوگ معاملات وزیراعظم کے علم میں لائے اور انہوں نے کہا کہ میں انکو ضرور دیکھوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ جو میرے مخالف ہیں انکے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہوگی اور بھر پور انصاف ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی ہے اور جتنا وقت مناسب ہوگا اس میں ترین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ انھوں نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے وفاقی وزیر قانون علی ظفر کو نامزد کیا جس پر ترین گروپ کے اراکین نے اعتراض اٹھایا لیکن عمران خان نے اسے رد کر دیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ جہانگیر ترین نے پارٹی کے لیے بہت ذیادہ کام کیا ہے لیکن جو جماعت انصاف کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو اور اس کا نصب العین یہ ہو کہ ہم احتساب کریں گے اور برابر احتساب ہوگا، وہ کسی طور یہ نہیں کر سکتی کہ اپنے لوگوں کے لیے انصاف کا معیار اور رکھے اور دوسروں کے لیے اور رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ترین گروپ کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نے اپنے اسی اصول کا اعادہ کیا۔ فواد نے ترین کے معاملے پر وزیراعظم کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کو واضح کیا گیا کہ سب کے لیے برابر احتساب ہوگا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے یا کسی ادارے پر ایسا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا کہ وہ کسی کے خلاف تحقیقات میں نرمی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا ایف آئی اے کی تحقیقات پر اثرانداز ہونا ممکن نہیں، البتہ جن اراکین کو شکایت ہے کہ چند شخصیات جان بوجھ کر ترین کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے علی ظفر کو نامزد کیا گیا ہے تا کہ وہ اس کیس کا جائزہ لیں اور وزیراعظم کو ایک رپورٹ پیش کریں۔
تاہم دوسری جانب اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس معاملے میں ڈھکوسلہ کر رہے ہیں اور شوگر سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے ٹیم کے سربراہ رضوان کو ان کے عہدے سے ہٹا کر خان صاحب اپنی سابقہ اے ٹی ایم کو این آر او دے چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ رضوان کو شوگر سکینڈل انکوائری سے ہٹانا جہانگیر ترین کا بڑا مطالبہ تھا جسے تسلیم کرلیا گیا ہے لیکن اب ڈرامے بازی کی جارہی ہے اور یہ ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اور یکساں احتساب کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ترین کے خلاف درج منی لانڈرنگ کیسز کے انکوائری آفیسر ڈاکٹر رضوان کو ہٹا کر ان کی جگہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے ابو بکر خدابخش کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا گیا ہے۔رضوان نہ صرف شوگر سکینڈل کی جے آئی ٹی کے سربراہ تھے بلکہ انہوں نے کپتان کی سابقہ اے ٹی ایم کے خلاف الزامات کی خود تحقیقات کی تھیں اور اب انہیں گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ ترین اور دیگر شوگر پروڈیوسرز کی جانب سے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور سٹہ بازی کے تمام کیسز کو بھی رضوان نے خود مانیٹر کیا تھا۔ ان ہی کی نگرانی میں ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک سے شواہد اکھٹے کرنے کے بعد شوگر سکینڈل انکوائری رپورٹ تیار کی گئی تھی جس کی روشنی میں بعد ازاں ترین اور دیگر مل مالکان کے خلاف مقدمات کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر رضوان کو بطور انکوائری آفیسر اس کیس سے ہٹائے بغیر جہانگیر ترین کو این آر او دینا ممکن نہیں تھا۔ لہذا اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ترین گروپ سے 27 اپریل والی ملاقات سے ایک روز پہلے ہی رضوان کو فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔
