"جب آئے گا عمران” سے "کب جائے گا عمران” تک کا سفر

عمران خان کے برسرِ اقتدار آنے کے ڈھائی برس بعد ہی ‘جب آئے گا عمران، بنے گا نیا پاکستان’ کا نغمہ گانے والے ان کے حمایتی اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ کب جائے گا عمران اور چھوٹے گی انکی جان، ہمیں نہیں چاہیئے نیا پاکستان؟
عوام الناس شکوہ کناں ہے کہ ہمیں خواب تو یہ دکھائے گئے تھے کہ ’’جب آئے گا عمران اور بنے گا نیا پاکستان‘‘ تو انکے دن پھر جائیں گے اور گزشتہ کئی برسوں سے اقتدار میں باریاں لینے والوں کو چوکوں میں اُلٹا لٹکا دیا جائے گا۔ عوام کو بتایا گیا تھا کہ یوں اپنی جان بچانے کے لئے کرپٹ سیاستدان قوم کی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں لوٹانا شروع کردیں گے۔ عمران خان کا دعوی تھا کہ کڑے احتساب کے ممکنہ عمل کی بدولت ریاستِ پاکستان کو کم از کم 200 ارب ڈالرز کے قریب رقم تو فوری واپس مل جائے گی۔ یوں بیرونی قرضوں کی یکمشت ادائیگی کے بعد بقیہ بچی رقم پاکستانی عوام کو سستی بجلی، پانی، گیس اور پٹرول فراہم کرنے پر صرف ہوگی۔ کپتان کا دعوی تھا کہ انکے دور میں یکساں تعلیمی نظام کی بدولت ملک کا ہر تعلیمی ادارہ انٹرنیشنل معیار کا نظر آئے گا۔ بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا، نوکریوں کی ریل پیل ہو گی اور غریبوں کو گھر فراہم کیے جائیں گے۔
خان صاحب کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالے اب 30 ماہ گزر چکے لیکن انکی جانب سے عوام کو دکھائے خوابوں کو تعبیر ملتی نظر نہیں آرہی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے باعث عام آدمی کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ اجیرن ہوگئی ہے۔ عوام کو ملنے والی صحت و تعلیم کی تمام سہولیات بند کر دی گئی ہیں۔ کہیں ڈاکٹر طبی حفاظتی سامان کے لیے احتجاج کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں تو کہیں کینسر کے مریض ادویات کے لیے۔ کہیں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، کہیں کلرک، کہیں نرسیں سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ عمران خان کے بلند و بانگ دعووں کے برعکس عوام سستی بجلی اور سستے پیٹرول کی جگہ مہنگا ترین پٹرول اور مہنگی ترین بجلی خریدنے پر مجبور ہے۔ عوام کے ساتھ سب سے بڑا دھوکا یہ ہوا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے کپتان نے اوپر تلے آئی ایم ایف سے کھربوں کے قرضے لے کر ان کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے جس سے ان کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔
جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو اکثر مافیاز کے خاتمے کا دعوی کرتے تھے مگر آج وہ انہی مافیاز کو اپنے ساتھ حکومت میں بٹھا کر قوم اور ملک کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ آٹا، چینی اور ادویات مافیا کے سرغنہ آج بھی عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں مگر کپتان سادہ لوح پاکستانی عوام کو ماموں بنانے کے لئے اب بھی دن رات یہی راگ الاپنے میں مصروف ہیں کہ وہ مافیاز کو نہیں چھوڑیں گے۔
ان حالات میں جب آئے گا عمران کا نغمہ گانے والا اب کب جائے گا عمران کا نغمہ گاتے نظر آتے ہیں۔ حالات اتنے برے ہو چکے ہیں کہ کل تک عمران کے اقتدار میں آنے کی دعائیں کرنے والے ان کے حمایتی آج ان کے اقتدار کے خاتمے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔
حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے اپنی مدت پوری کرلی تو نہ صرف پاکستان کی مکمل معاشی بربادی کا امکان یے بلکہ نوجوان نسل کے بچے کھچے خواب بھی خاک میں مل جائیں گے۔ عمران کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ناکامی صرف عمران کی ناکامی نہیں، بلکہ پوری مڈل کلاس، کارپوریٹ کلاس، اوورسیز پاکستانیوں اور تنخواہ داروں کی ناکامی ہے جس سے ان طبقات کا مستقبل بھی دائو پر لگ گیا یے جو تبدیلی کے نعرے پر یقین کر کے تبدیلی کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک موجودہ حکومت کی کارکردگی سے قطع نظر کپتان اپنے بیانیے میں پوری طرح کامیاب ہے۔ عمران خان کے بعض حامی اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کام ہی نہیں کرنے دیا جا رہا، مافیاز ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔ چور، سیاست دان اور ڈاکو لیڈر پھر سے اقتدار میں آنے کے لئے سازشیں کر رہے ہیں۔ اِن لوگوں کی نظر میں عمران خان دو اڑھائی سال میں ملک ٹھیک نہیں کر سکتا، انہیں کو کم از کم 5 سال مکمل کرنے دیں۔ اگر کپتان کو مسلسل دو ٹرمز مکمل طور پر ملیں تو تب ہی وہ صحیح اور مکمل تبدیلی لاکر نیا پاکستان بنا سکے گا۔
عمران خان کے حامیوں کی خوش فہمیاں ایک طرف مگر اس کی گارنٹی کون دے گا کہ کپتان واقعی ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ فرض کر لیں کہ موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ مدت مکمل کر لے گی۔ اُس کے خلاف پی ڈی ایم، تیسری طاقت اور تمام در پردہ یا کھلی سازشیں ناکام رہیں گی۔ عمران خان کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہیں آئے گی۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو اڑھائی سال بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ سوال یہ ہے کہ ہمارا اگلے دو تین سال کا معاشی، سیاسی اور سماجی وژن کیا ہے؟ ہماری معیشت کی شرح نمو جو منفی ہےاڑھائی سال بعد کتنی ہو گی؟ کون سی نئی موٹر ویز بنیں گی؟ کون سے بجلی کے نئے کارخانے لگیں گے؟ پاکستان کا نظامِ تعلیم کہاں کھڑا ہوگا؟ پاکستان کی زراعت میں کتنی بہتری آچکی ہوگی؟ کتنے بیروزگار نوکریاں حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے بےگھر اپنے گھر حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے غریب خطِ غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے؟ کتنے مفلس مہنگائی کے عذاب سے بچ سکیں گے؟
مبصرین کے نزدیک ان سوالوں کے جتنے بھی مثبت جواب دینے کی کوشش کی جائے، سچ تو یہ ہے کہ اڑھائی سال بعد کی تصویر دھندلی اور غیر واضح ہے۔ یوں عمران کی کپتانی میں پاکستانیوں کا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک نظر آ رہا ہے۔ ملک آگے نہیں بلکہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے اور آج ان تجزیہ کاروں کی باتیں سچ لگ رہی ہیں جو کہتے تھے کہ ملک کو جان بوجھ کر تباہ کیا جائے گا، معاشرتی طور پر بگاڑ پیدا کیا جائے گا، لوگوں میں نفرت پیدا کی جائے گی،ملک کی معیشت تباہ کر کے آئی ایم ایف کے حوالے کر دی جائے گی، ملکی زراعت کو مکمل تباہ کیا جائے گا، عوام آٹے جیسی بنیادی ضرورت کو ترسیں گے۔ سو یہ سب کچھ پاکستانیوں کے ساتھ ہو چکا ہے اور وہ اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ لہٰذا عوام اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ جب جائے گا عمران، چھوٹے گی اس سے جان، ملے گا پرانا پاکستان۔
