حکومتی ناکامی کا ذمہ دار سلیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹر ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی ناکامی کی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان پر عائد کرنا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے اور کوئی یہ سچ نہیں بولنا چاہتا کہ اصل غلطی سلیکٹڈ کی نہیں بلکہ سلیکٹر کی ہے جو صحیح سلیکشن کی اہلیت بھی نہیں رکھتا۔
اپنے تازہ ترین تجزیے میں سلیم صافی عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے دعووں کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ
وہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس ٹیم ہے۔ میری ٹیم نے ہر محکمے کے حوالے سے ہوم ورک کر لیا ہے۔ یہ ٹیم تین ماہ میں پاکستان بدل دے گی۔ لیکن جب اقتدار ملا تو پتہ چلا کہ نہ تو انکی کوئی ٹیم ہے اور نہ ہی کوئی تیاری تھی، لیکن پھر بھی خان صاحب کا موقف یہی ہے کہ قصور ان کا نہیں، بلکہ انکی ٹیم کا ہے۔ لیکن سلیم صافی یاد دلواتے ہیں کہ خود انہوں نے اسد عمر کو پوسٹر بوائے اور معاشی ٹیم کا قائد بنایا تھا۔ اسی اسد عمر کے ایما پر انہوں نے کروڑوں گھر بنانے اور کروڑوں نوکریاں دلوانے کے غیرحقیقی وعدے کئے تھے۔ ہم جیسے معیشت سے نابلد لوگ چیختے رہے کہ اسد عمر مارکیٹنگ کے ماہر ہیں اور وہ بھی اپنی ذات کی مارکیٹنگ کے، لیکن عمران خان کا اصرار رہا کہ اسد عمر جیسا ماہر معیشت کوئی دوسرا نہیں۔
سلیم صافی یاد دلواتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے پہلے یہی عمران خان ڈی چوک کے دھرنے میں گلا پھاڑ پھاڑ کر اعلان کیا کرتے تھے کہ وہ خودکشی کرلیں گے لیکن آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے نہیں جائیں گے، اپنے اسی موقف کی وجہ سے اقتدار میں آنے کے فوری بعد وہ قرضہ لینے بارے کئی ماہ تک گومگو کا شکار رہے اور اسی بے یقینی کی وجہ سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ چنانچہ اسد عمر ناکام وزیرخزانہ ڈکلیئر کرکے فارغ کردیے گئے۔ لیکن صافی کہتے ہیں کہ خان صاحب پھر بھی کمال کے لیڈر ہیں کیونکہ وہ عمران خان ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسد عمر کو ہٹا کر عمران نے حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا۔ سب لوگ چیختے رہے کہ یہ صاحب زرداری اور مشرف کے معاشی منیجر رہے ہیں اور ناکام ثابت ہوئے تھے۔ لیکن کسی نے نہ سنی۔ امپورٹڈ حفیظ شیخ نے پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا لیکن عمران خان ان کے اتنے گرویدہ رہے کہ وفاقی وزیر بنوانے کے لئے انہیں سینیٹر بنانے پر بھی مصر رہے۔ حفیظ نے معیشت اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کے لئے جو اقدامات اٹھائے اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے خان صاحب نے اس کے لئے ناجائز طور پر آرڈیننس کے ذریعے قانونی سازی بھی کی۔ اور پھر اچانک ایک دن حفیظ کو بھی ناکام ڈکلیئر کرکے فارغ کردیا۔ صافی کہتے ہیں کہ حفیظ شیخ کو لگانے والے بھی خان صاحب، انکا دفاع کرنے والے بھی خان صاحب اور اب انہیں فارغ کرنے والے بھی خان صاحب لیکن اس کے باوجود خان صاھب کمال کے لیڈر ہیں کیونکہ وہ عمران خان ہیں۔
صافی کہتے ہیں کہ ندیم بابر کو توانائی کا محکمہ نواز شریف یا زرداری نے نہیں بلکہ عمران خان نے عنایت کیا۔ ہم جیسے ناقد تو کیا عمران کے حامی میڈیا پرسنز بھی چیختے رہے کہ ندیم بابر خود اس کاروبار سے وابستہ ہیں اور مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ درجنوں پروگرام کرکے بروقت توجہ دلاتے رہے کہ ندیم بابر کی وزارت ملکی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکا لگوارہی ہے لیکن جواب میں عمران خان کے ترجمان شاہزیب خانزادہ کی کردارکشی کرتے رہے۔ اب عمران خان کے تین وزرا نے ایک ساتھ بیٹھ کر اعلان کیا ہے کہ شاہزیب خانزادہ جو کچھ کہتے رہے وہ درست تھا اور ملکی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکا لگا دیا گیا۔ بہر عوام کی تباہی نکالنے کے بعد ندیم بابر کی چھٹی کرادی گئی، لیکن پھر بھی خان صاحب کمال کے لیڈر ہیں کیونکہ وہ عمران خان ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور میں فردوس عاشق اعوان کے کارندے افتخار درانی کو عمران خان نے اپنا معاونِ خصوصی بنا دیا کیونکہ وہ مخالفین کی کردار کشی کے ماہر تھے۔ پھر جب ان کے خلاف ایجنسیوں کی رپورٹیں آئیں تو خان صاحب کو مجبوراً انہیں ہٹانا پڑا لیکن جب شبلی فراز صاحب وزیر بنے تو وزارتِ اطلاعات سے ناواقفیت کی وجہ سے انہوں نے عملاً اپنا سارا کام اسی افتخار درانی کے سپرد کئے رکھا اور خان صاحب تماشا دیکھتے رہے لیکن پھر بھی خان صاحب کمال کے لیڈر ہیں کیونکہ وہ عمران خان ہیں۔ صافی کہتے ہیں کہ خان صاحب نے فردوس عاشق اعوان کو مرکز میں اطلاعات کی وزارت سونپی تو انکے خوشامدی ترجمانوں نے اس فیصلے کو سراہا۔ پھر انہیں ہٹایا گیا تو بھی ان ہی لوگوں نے خان صاحب کے فیصلے کو سراہا۔ پھر فردوس کو پنجاب میں وزارتِ اطلاعات سونپی گئی، تب بھی خوشامدیوں کی جانب سے ان کے فیصلے کو سراہا گیا۔ یعنی خان صاحب لگائیں تو بھی زندہ باد اور ہٹائیں تو بھی زندہ باد۔ مختصر یہ کہ وہ کچھ بھی کریں تو کمال کے لیڈر ہیں کیونکہ ان کا نام عمران خان ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ ان حالات میں اب پاکستان میں ایک نیا لطیفہ جنم لے رہا ہے کہ اتنے عمران خان کپڑے نہیں بدلتے جتنے وزرا اور ان کے محکمے بدلتے ہیں۔ شاید خان صاحب کی تبدیلی سے مراد یہی تھی کہ صبح ایک وزیر اور شام کو دوسرا وزیر تبدیل کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر اور مشیر کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان خود سلیکٹ کرتے ہیں۔ اب یہ عجیب تماشہ ہے کہ ہر الزام سلیکٹڈ کے سر تھوپا جاتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ غلطی سلیکٹر کی ہے جو صحیح سلیکشن کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔
