فٹبال فیڈریشن کی دوبارہ معطلی کا خطرہ منڈلانے لگا

پاکستان فٹبال فیڈریشن کی آپسی گروہ بندی اور چقپلش نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی ‘فیفا’ نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی تسلیم شدہ باڈی کو بحال نہ کرنے کی صورت میں فٹبال فیڈریشن کی ایک بار پھر رکنیت معطل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
فٹبال کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں یہ تنازعات کی حد تک محدود رہ گیا ہے۔ تازہ ترین جھگڑے میں لاہور میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے زیر انتظام چلنے والے فٹبال ہاؤس سے فیفا کی نارملائزیشن کمیٹی کے ممبران کو بے دخل کر کے متحارب اشفاق گروپ نے دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ سید اشفاق حسین گروپ کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن لاہور کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضے کے نتیجے میں عہدیداران، ملازمین اور عملے نے دفاتر خالی کر دیے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد فیفا کی جانب سے مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی نے قومی ویمنز فٹبال چیمپیئن شپ 2021 فوری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی نے اس غیر قانونی کارروائی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے مطابق فیفا نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ہیڈکوارٹرز پر فوری غیر قانونی قبضہ ختم کر کے فیفا کی تسلیم شدہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی باڈی کو عمارت تک رسائی کی اجازت نہ دی گئی تو پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت کو معطل کردیا جائے گا۔
فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون ملک کو لکھے گئے اپنے خط میں واضح الفاظ میں کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے والوں نے ان ہدایات پر عمل نہ کیا تو معاملہ فوری طور پر فیصلہ سازی کی بیورو آف کونسل کو بھیجا جائے گا جو فیفا کے تحریر شدہ قانون کے آرٹیکل 16 کے پیرا 1 کی روشنی میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کر سکتی ہے۔ فیفا نے کہا کہ انہیں پاکستان فٹبال فیڈریشن ہیڈکوارٹرز لاہور میں پیش آنے والی ناخوشگوار واقعے کے بارے میں پتہ چلا جہاں سید اشفاق حسین گروپ نے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا جس کے بعد فیڈریشن کے عہدیداران اور ملازمین کو دفاتر خالی کرنے پڑے۔ فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی نے واقعے کی مذمت کی اور اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین خصوصاً پاکستان فٹبال فیڈریشن کی عمارت پر دھاوا بولنے والوں کو یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نارملازیشن کمیٹی کو بیورو آف کونسل کے فیصلے کے بعد قیام عمل میں لایا گیا تھا اور اس کی بعد میں فیفا نے منظوری دی تھی، اس کی سربراہی آپ کے لوگ کر رہے ہیں اور یہ فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی واحد تسلیم شدہ ایگزیکٹو باڈی ہے۔
فیفا کے بیان میں کہا گیا کہ فٹبال فیڈریشن کے لاہور ہیڈکوارٹرز پر غیر قانونی قبضے کو فیڈریشن کے امور میں مداخلت کے مترادف تصور کیا جائے گا اور یہ فیفا قوانین کے آرٹیکل 14 کے پیرا 1 اور آرٹیکل 19 کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ فیفا نے کہا کہ فیڈریشن کی معطلی کے نتیجے میں پاکستان فٹبال فیڈریشن، فیفا قوانین کے آرٹیکل 13 میں درج رکنیت کے تمام حقوق سے فوری طور پر محروم ہو جائے گی اور تاحکم ثانی معطل رہے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی قومی ٹیم یا کوئی بھی کلب کی ٹیم کسی بھی انٹرنیشنل مقابلے میں شرکت کے حق سے بھی محروم ہو جائے گی جبکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن اور اس کے اراکین فیفا کے مالیاتی/ترقیاتی پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان فٹبال میں کئی سالوں سے جاری بحران کے پیش نظر ستمبر 2019 میں فیفا نے پاکستان میں نارملائزیشن کمیٹی کا تقرر کردیا تھا۔ اس تقرری کے نتیجے میں 2003 سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر کے منصب پر فائز فیصل صالح حیات کے دور کا خاتمہ ہوگیا تھا اور اشفاق گروپ نے فیڈریشن کے اختیارات حمزہ خان کی زیر سربراہی باڈی کو سپرد کر دیے تھے۔ گزشتہ سال حمزہ خان عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد ہارون ملک نے نارملائزیشن کمیشن کی باگ ڈور سنبھالی تھی، لیکن جلد الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کرنے والے اشفاق گروپ نے یہ کہہ کر ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لاہور ہیڈکوارٹرز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اشفاق حسین نے کہا ہے کہ وہ فیفا سے نہیں ڈرتے اور پاکستان فٹبال فیڈریشن پر عالمی پابندی کا خطرہ بھی ان کے غیر متزلزل عزم کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔
یاد رہے کہ پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے اپریل 2015 میں متنازع الیکشن منعقد کرانے کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن ادارے کے صدارتی الیکشن سے قبل ہی دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی۔ دونوں دھڑے اپنی نگرانی میں الیکشن کرانا چاہتے تھے تاہم لاہور ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے الیکشن پر حکم امتناع جاری کردیا لیکن پھر بھی فیصل صالح حیات کے حامی گروپ نے اے ایف سی کے حکام کی نگرانی میں الیکشن منعقد کرائے اور اسی دوران لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان فٹبال فیڈریشن امور چلانے کےلیے ایک منتظم کا تقرر کردیا۔ اکتوبر 2017 میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے امور کو چلانے کےلیے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر کے تقرر پر فیفا نے اسے سیاسی مداخلت قرار دیتے چھ ماہ کےلیے فیڈریشن کی رکنیت معطل کردی تھی۔ لیکن فیڈریشن کے اختیارات دوبارہ فیصل صالح حیات کو منتقل کیے جانے کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت بحال کردی گئی تھی۔
