ججز کی تعیناتی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے

پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ہوئی جس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔ پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کا مطالبہ اوراحتساب کے نام پر سیاسی انتقام,شخصی آزادیاں سلب کرنے اور آئین کی روح کے منافی قانون سازی کی مذمت کی گئی جبکہ انیسویں ترمیم ختم کرنے اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے فوری قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں سیاسی رہنماؤں، وکلاء تنظمیوں کے عہدیداروں اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اے پی سی کا موضوع ججز کی تعیناتی، احتساب اور سول آزادی تھا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے خطاب میں کہاکہ ججز کی تعیناتی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان تمام قانونی برادری کو متحرک کرکے ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار مرتب کرے، احتساب سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بن کر رہ گیا ہے، بلا امتیاز احتساب کا نظام نہیں ہوگا تو احتساب اندھا کھیل بن جائے گا۔
پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ججز کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار پر نظر ثانی کی جائے۔اعلامیے کے مطابق 19 ویں آئینی ترمیم ختم کی جائے، احتساب کا نیا قانون بنایا جائے اور مقدمہ میں سزا سے پہلے گرفتاریاں ختم کی جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں آزادی اظہار رائے اور شخصی آزادیوں پر پابندیاں قابل تشویش ہیں۔ اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے,جوڈیشل کمیشن ختم کر کے ایسا فورم بنایا جائے جس میں پارلیمان کی نمائندگی ہو,مزید کہا گیا ہے کہ احتساب کے نظام میں خامیاں ختم کی جائیں، ملک میں شہری اور شخصی آزادیاں سلب کی جا رہی ہیں۔ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے فوری قانون سازی کی جائے۔
