جرنیل بھارت سے دوستی کرنے پر غدار کیوں نہیں ٹھہرتا؟

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ پر امن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنے والے ہر منتخب وزیراعظم کو پاکستانی فوج نے غدار بنا دیا لیکن خود ایوب سے مشرف تک تمام فوجی ڈکٹیٹرز انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش میں سویلین حکمرانوں سے ہمیشہ سبقت لے جاتے رہے ہیں۔ تاہم افسوس کہ انہیں ایسا کرنے پر نہ تو کسی منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی غداری کے الزام کا کیونکہ پاکستان میں یہ حق صرف وردی والوں کے پاس ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے نام پر عہدے میں توسیع حاصل کرنے والے جنرل قمر باجوہ نے اب بھارت کے حوالے سے وہ باتیں کرنا شروع کر دی ہیں جو نواز شریف کرتے تھے تو انہیں غدار قرار دے دیا جاتا تھا، لیکن کیا کریں کہ ہمیشہ ہاتھی کے پاوں میں سب کا پاوں ہوتا ہے خصوصا جب ہاتھی بد مست اور بد لحاظ بھی ہو۔
انڈیا کو مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش ہو، سفارتی تعلقات چلانے ہوں یا اس کے ساتھ مرحلہ وار مذاکرات کا عمل شروع کرنا ہو، ماضی کی روایات بتاتی ہیں کہ پاکستانی فوجی حکمرانوں نے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت کسی رائے عامہ یا ردعمل کی پرواہ نہیں کی۔ ایوب خان ہوں، جنرل ضیا یا پھر جنرل پرویز مشرف، سب ہی جوابی عوامی ردعمل کے باوجود انڈیا کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر سفارتی تعلقات بنانے کی کوششوں میں شریک رہے ہیں۔ ایوب خان کی جانب سے بھارت کو مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیش کش کی گئی تو جنرل ضیا انڈیا سے فوجی کشیدگی ختم کرنے کی خاطر کرکٹ ڈپلومیسی کرتے ہوئے بن بلائے بھارت جا پہنچے۔لیکن جنرل مشرف ایک قدم اور آگے چلے گئے۔ مشرف واجپائی مشترکہ بیان کی تحریر کچھ یوں ہے کہ ‘صدر مشرف نے وزیراعظم واجپائی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستانی کنٹرول میں کسی بھی علاقے کو کسی بھی طور پر دہشت گردوں کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔’
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے فوجی حکمران ہر بار اپنے ادوار میں انڈیا کو امن کی پیشکش کرنے میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں اور اس پر کوئی سیاسی ردعمل کیوں نہیں ہوتا جبکہ عوام کے منتخب وزرائے اعظم کو ایسا کرنے پر غدار وطن بن کر اقتدار سے محروم ہونا پڑتا ہے؟ سیاسی ماہرین اس معمے کو ‘نکسن چائنا سینڈروم’ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ اصطلاح امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نکسن کے تعارف کے طور پر استعمال ہوتی ہے جو کٹر کمیونسٹ مخالف کے طور پر مقبول تھے اور چین کو بطور کمیونسٹ طاقت، حد میں رکھنے کی کوشش میں رہتے۔ اسی لیے رچرڈ نکسن کمیونسٹ مخالف مہم چلانے والے ایک سٹار اور ہیرو بن کر ابھرے۔ بعد ازاں جب وہ صدر بن گئے تو وہ کمیونسٹ چین سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی حد تک چلے گئے اور آخر کار بیجنگ کا دورہ بھی کیا، اس طرح امریکی سیاست میں ‘نکسن چائنا سینڈروم’ ایک محاورہ بن گیا جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ نکسن جیسا کٹر کمیونسٹ مخالف چین بھی جا سکتا ہے اور اس سے اتحاد بھی بنا سکتا ہے جسکے پیچھے یقیناً کوئی سیاسی منطق ہو گی۔
پاکستان کی بربادی میں بڑا حصہ ڈالنے والے فوجی آمر جنرل ضیا کے بعد صرف ایک ہی سیاستدان کو یہ استحقاق ملا کہ وہ ‘نکسن چائنا سینڈروم’ کے ثمرات سے مستفید ہو سکے، یہ سابق وزیراعظم نوازشریف تھے۔ ان کے ‘نکسن چائنا سینڈروم’ لمحات کا آغاز 1997 کے ابتدائی مہینوں سے شروع ہوا جب وہ انتخابی مہم پر تھے۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس بار اقتدار میں آنے کے بعد وہ پہلا کام انڈیا سے تعلقات کو ٹھیک کرنے کا کریں گے۔ نواز شریف کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی اور مذہبی دایاں بازو سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گیا، یہ دائیں بازو کی وہ مذہبی جماعتیں تھیں جنھوں نے انڈیا سے دوستی کی پیشکش کی مخالفت کی تھی۔ اقتدار میں آنے کے دو سال کے اندر اس وقت کے نوازشریف کی شروع کردہ ‘بیک چینل’ سفارت کاری کے ثمرات آنا شروع ہو گئے اور انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی فروری 1999 میں تاریخی بس دورے پر لاہور آئے۔
لاہور سربراہی اجلاس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ‘سٹرکچرڈ’ بات چیت بحال ہوگئی۔ لیکن اس سفارتی پیش رفت کو تباہ کرنے کے لئے فوج کے ایما پر دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں ایک بار پھر باہر نکال دیی گئیں اور فوج نے اس موقع کو خراب کرنے کی پوری کوشش کی۔ تاہم کوئی حربہ کارگر ثابت نہ ہو سکا اور نوازشریف کی مقبولیت میں بظاہر کوئی کمی نہ آ سکی۔ وزارتِ عظمیٰ کے تیسرے دور میں فوج کی جانب سے نواز شریف کو ایک ایسے شخص کے طورپر پیش کیا جانے لگا جو پاکستان میں انڈین مفادات کے لیے کام کر رہا تھا۔ اور پھر مودی کے اس یار کو اقتدار سے بیدخل کر دیا گیا۔
لیکن پاکستانی فوجی حکمرانوں کو ایسے الزامات اور القابات سے ہمیشہ استثنیٰ حاصل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنل ایوب خان ہو، جنرل ضیا ہو یا جنرل مشرف، ان سب نے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ وسیع اور لچک دار اہداف کے ساتھ اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ اگرچہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے فوجی حکمران تو نہیں لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ عمران خان ایک کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں اور اصل میں حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے۔ اور شاید اسی لیے ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوجی سربراہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔
جنرل باجوہ نے اسلام آباد میں سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جو تقریر کی اسے انڈیا سے تعلقات کے حوالے سے ہر لحاظ سے ایک پالیسی بیان کہا جا سکتا ہے۔ جنرل باجوہ کی جانب سے بہتر پاک بھارت تعلقات بہتر کرنے کی آفر میں وزیراعظم عمران خان اور ان کی وزارت خارجہ کہیں دکھائی نہیں دیے۔ یہ اور بات کے جنرل باجوہ کے بیان کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم نریندرا مودی کے مابین خط و کتابت شروع ہوگئی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستانی اور بھارتی فوجی حکام نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جنرل باجوہ نے انڈیا کو امن کی پیشکش کی ہو۔ انہوں نےاپنی تازہ تقریر میں ایک بار پھر پاک انڈیا امن عمل کی بحالی کے لئے کشمیر میں سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اگر پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کوئی اشارہ یا عندیہ ہو سکتی ہے تو آرمی چیف اقتدار کا نمایاں ترین مرکز ہے اور آرمی واحد ادارہ ہے جو دنیا کو دیے جانے والے موجودہ پالیسی بیان کے پیچھے کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ، طالبان اور افغان حکومت کے درمیان افغانستان میں امن عمل کو بھی سپانسر کر رہی ہے۔ پاکستان آرمی نے دل سے علاقائی رابطے جوڑنے کے بہت بڑے منصوبے کو قبول کیا ہے جو پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ انتہائی پرلے درجے کا تضاد ہو گا کہ انڈیا کے ساتھ فوجی مخاصمت تو جاری رکھی جائے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ سفارتی تعلقات بہتر کرنے کا پرچار بھی جاری رہے۔
