جسٹس شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ، فیض حمید کے منہ پر تھپڑ؟



سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اسلام ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی غیر قانونی قرار دیے جانے کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے منہ پر ایک طمانچہ قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے جسٹس صدیقی کو فارغ کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ یاد ریے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ کے تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی ملی بھگت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنی فراغت کو چیلنج کرتے ہوئے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواست دائر کی تھی جسے فیض حمید کے زیر دباؤ مختلف چیف جسٹس صاحبان لٹکاتے رہے اور جسٹس صدیقی ریٹائر ہو گئے۔

تاہم چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس شوکت صدیقی کی درخواست کی سماعت شروع کی۔ قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے 23 جنوری 2024 کو کیس سماعت مکمل کی تھی جس کا فیصلہ 21 مارچ 2024 کو جاری کیا گیا۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل کی اس معاملے میں سفارشات اور وزیراعظم کی جانب سے اس سلسلے میں صدر مملکت کو بھیجی گئی ایڈوائس پر عملدرآمد کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے کی وجہ سے انھیں عہدے پر بحال نہیں کیا جا سکتا اس لیے انھیں ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے اور اس سلسلے میں انھیں تمام متعلقہ مراعات دی جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’کیس تاخیر سے مقرر ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے اور عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔’ اس سے قبل 2021 میں پاکستان بار کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کا وکالت کا لائسنس بھی بحال کیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پاکستان بار کونسل کی تین رکنی انرولمنٹ کمیٹی نے اس وقت اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ چونکہ سپریم جوڈیشل کونلس نے بدعنوانی یا اخلاقی گراوٹ جیسے الزامات کی بنیاد پر شوکت صدیقی کو برطرف نہیں کیا تو اس وجہ سے یہ کمیٹی فوری طور پر ان کے لائسنس کو بحال کرتی ہے۔

اب سوال یہ یے کہ شوکت عزیز صدیقی کون ہیں اور انھیں ائی ایس ائی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت کی جانے والی ایک باقاعدہ سازش کے تحت ان کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا تھا؟ شوکت صدیقی 21 نومبر 2011 میں صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات ہوئے اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے جولائی 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران نے الزام عائد کیا تھا کہ ‘آئی ایس آئی کے اہلکار نہ صرف عدالتی معاملات پر اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ اپنی پسند کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتے ہیں۔‘ اس تقریر میں جسٹس شوکت صدیقی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی سے ملاقات کر کے اُنھیں سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد کرنے کا کہا گیا تھا جسے جسٹس شوکت صدیقی کے بقول تسلیم کرلیا گیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ان الزامات پر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تحقیقات کرنے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا کہا تھا۔ معزز جج کے ان بیانات کی روشنی میں وزارت دفاع کی طرف سے ایک شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شکایت پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے صدر مملکت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ جج کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے اس وقت کے صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اکتوبر 2018 میں شوکت صدیقی کو برطرف کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس 2015 میں بھی دائر کیا گیا تھا اور ان پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرکاری گھر پر تزئین و آرائش کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کا الزام تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی عملی سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور انھوں نے جماعتِ اسلامی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم ناکام رہے تھے۔اپنی برطرفی کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کی سماعت کافی عرصے تک جاری رہی۔

مارچ 2020 میں شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کو لکھے گئے خط میں معاملے کی جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔ اس سے قبل بھی وہ کم از کم ایسے تین خط لکھ چکے تھے۔ اپنے خط میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ 11 اکتوبر 2018 سےاب تک ان کی درخواست التوا کا شکار ہے اور ابتدائی مراحل کی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوئی۔ دو صفحات پر مشتمل اس خط میں شوکت عزیز صدیقی کا موقف تھا کہ ان کی اپیل میں سماعت کے لیے تاخیر روا رکھی گئی ہے، لہذا اس کا مناسب سدباب کیا جائے۔ درخواست میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالت عظمیٰ کو اس عمومی تاثر کو سنجیدگی سے زائل کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ آئینی درخواست کو 30 جون 2021 تک زیر التوا رکھنا کسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ میری ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزر جائے اور آئینی درخواست چند اہم امور کے حوالہ سے غیر موثر ہو جائے۔‘ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ اس مسلسل التوا کے نتیجے میں وہ اور ان کا خاندان ذہنی پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

11 اکتوبر 2018 کو دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ’جوڈیشل کونسل نے آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا اور درخواست گزار کو آئینی حق سے محروم رکھا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی انکوائری کرنی چاہیے تھی۔ اس تمام کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔‘ شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج تھے اگر شوکت صدیقی کو فوری کارروائی کر کے اکتوبر 2018 میں برطرف نہ کیا جاتا تو 26 نومبر 2018 کو انہوں نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا حلف اُٹھانا تھا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں کونسل کی جانب سے برطرفی کی سفارش کو بدنیتی قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیزی کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل فیض حمید کے منہ پر ایک تھپڑ بھی ہے اور نظام انصاف پر ایک سوالیہ نشان بھی۔

Back to top button