فائز عیسیٰ کے کس فیصلے سے ثاقب نثار کا منہ مزید کالا ہوگیا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سابق چیئرمین پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کی تعیناتی کو ازخود نوٹس کے تحت غیر قانونی قرار دیئے جانے کا عدالتی فیصلہ غلط ڈکلیئر کیے جانے سے ثابت ہو گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے دور میں انصاف کی سب سے بڑی کُرسی پر بیٹھ کر انصاف کی دھجیاں بکھیرتے رہے اور اپنی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر من مرضی کے فیصلے کرتے رہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر ریورس کر دیا جو کہ ثاقب نثار کے منہ پر ایک طمانچے کے مترادف ہے۔باخبر حلقوں کے مطابق عطاالحق قاسمی کا قصور یہ تھا کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی دوست تھے لہٰذا جسٹس ثاقب نثار نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ بابا رحمتے کہلانے والے میاں ثاقب نثار کو ان کے داغدار ماضی کی وجہ سے ملک کا متنازعہ ترین چیف جسٹس سمجھا جاتا یے۔ ان کا دور عدالتی فیصلوں سے زیادہ غیر عدالتی سرگرمیوں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کی وجہ سے متنازعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بطور چیف جسٹس اپنے دور میں ثاقب نثار نے نہ صرف نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ عمران خان کو دھاندلی سے وزیراعظم بنوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کی خاطر کوئلوں کی دلالی کرنے والے ثاقب نثار اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی پہلی مرتبہ بے نقاب نہیں ہوئے۔ ان کا ماضی ایسی حرکات سے بھرا پڑا ہے۔ ثاقب نثار بطور چیف جسٹس اپنا اصل کردار ادا کرنے کی بجائے غیر ضروری طور پر ادھر ادھر کے معاملات میں منہ مارتے تھے جیساکہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ کا قیام، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سیکیورٹی واپس لینے کے احکامات، آبادی کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، ہسپتالوں کی صفائی وغیرہ۔ یہ ایسے کام تھے جو حکومت وقت کرتی ہے لیکن سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ان کا بوجھ بھی ثاقب نثار نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ایسا کرنے کے لیے زیادہ تر ازخود نوٹسز کا سہارا لیا گیا۔ مختصر یہ کہ بطور چیف جسٹس پاکستان بابا رحمتے نے انصاف فراہم کرنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا اور اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے معاملات میں بلاوجہ ٹانگ اڑا کر ہر کام خراب کیا۔عطا الحق قاسمی کے خلاف فیصلہ بھی جسٹس ثاقب نثار کی ایسی ہی ایک گندی واردات تھی جسے اب چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے عطا الحق قاسمی، اسحاق ڈار، پرویز رشید، فواد حسن فواد کی نظرثانی درخواستیں منظور کرلی ہیں، عطا الحق قاسمی اور دیگر سے 19 کروڑ سے زائد رقم وصولی کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ان لوگوں کیخلاف کرپشن یا اقربا پروری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی وی کو 19 کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچانے کے شواہد نہیں ملے، فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عطا الحق قاسمی، پرویز رشید، اسحاق ڈار، فواد حسن فواد سے رقم وصول کرنے کا پچھلا فیصلہ درست نہیں تھا۔ عدالت نے مستقبل میں عطاالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری پر عائد کردہ پابندی بھی ختم کر دی۔ دوران سماعت عطا الحق قاسمی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنا بنتا ہی نہیں تھا، لیکن سپریم کورٹ خود آڈیٹر بن گئی تھی۔عدالت میں پیشی کے دوران فواد حسن فواد نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کا 50 سال سے ادب اور شاعری سے تعلق ہے۔ مجھ سے منسوب عدالتی فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز حقائق کے منافی ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ جب سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا تب کس کی حکومت تھی، فواد حسن فواد نے بتایا کہ تب پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کے وکیل نے تسلیم کیا ہے کہ عدالت کی طرف سے 19 کروڑ سے زائد نقصان کی طے کردہ رقم کا تعین درست نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک اور کیس میں عطا الحق قاسمی کی تقرری پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2018 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق چئیرمین کی تقرری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عطاالحق قاسمی بطور چئیرمین حاصل کردہ مراعات اور تنخواہ کے حقدار نہ تھے۔ عدالتی فیصلے میں عطاالحق قاسمی کے تقرر کا ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو قرار دیا گیا تھا۔ فیصلے میں عطاالحق قاسمی کی طرف سے 19 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کی لی گئی مراعات اور تنخواہوں میں سے کچھ حصہ پرویز رشید، اسحٰق ڈار اور فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عطاالحق قاسمی نے بطور چئیرمین جو احکامات دیئے وہ اور اپنی مدت کے دوران جتنی تنخواہ اور مالی فوائد حاصل کیے سب غیر قانونی ہیں۔ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے ذاتی دوست عطاالحق قاسمی کو کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے تاحیات نااہل بھی قرار دیا تھا، ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی حکم دیا تھا اگر چئیرمین پی ٹی وی کا عہدہ خالی ہے تو اس پر مستقل طور پر تعیناتی کی جائے۔ عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن تقرری سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ سیکریٹری اطلاعات نے 2015 میں چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کے حوالے سے عمر کی بالائی حد میں کمی کی سمری بھجوائی، جسے وزیراعظم نے منظور کیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ عطاءالحق قاسمی کی بطور چیئرمین تقرری کی سمری ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات نے بھجوائی جس کی 23 نومبر 2015 کو وزیراعظم نے منظوری دی۔ درخواست کے مطابق عطاء الحق قاسمی کو ڈائریکٹر اور چیئرمین پی ٹی وی تعینات کیا گیا جبکہ انہوں نے 18 دسمبر 2017 کو عہدے سے استعفیٰ دیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یہ معاملہ ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت نہیں سنا جا سکتا تھا، اور سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں ماتحت عدلیہ اور پبلک اتھارٹیز کے اختیارات استعمال کیے۔ درخواست کے مطابق ازخود نوٹس کا دائرہ اختیار بڑھانے سے مقدمات کا طوفان سپریم کورٹ کا رخ کرے گا کیونکہ بنیادی طور پر ہر مقدمہ بنیادی حقوق کا ہوتا ہے، اور ازخود نوٹس کے زیادہ استعمال سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوتا ہے۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے میں شفاف ٹرائل کے بغیر جرمانے عائد کیے گئے جو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تھے، لہٰذا سپریم کورٹ کا فیصلہ آرٹیکل 248 کے منافی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل وفاقی وزرا کو بعض اقدامات پر عدالتی استثنیٰ دیتا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عطاء الحق قاسمی عدالتی حکم سے پہلے ہی مستعفی ہوچکے تھے جبکہ سپریم کورٹ جرمانے عائد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ماضی میں ہائیکورٹ کے 100 ججوں کی تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا، ان ججز سے تنخواہوں کی مد میں وصولی نہیں کی گئی جبکہ کچھ کو تو پینشن بھی دی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ 8 نومبر کا عطاءالحق قاسمی ازخود نوٹس کا فیصلہ کالعدم قرار دے چنانچہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ موقف درست تسلیم کرتے ہوئے عطاالحق قاسمی کے خلاف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ریورس کر دیا ہے۔
