جسٹس عائشہ کی جگہ جسٹس اطہر من اللہ کی ترقی کا مطالبہ

جسٹس عائشہ


پاکستانی وکلاء برادری نے 3 سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے ایک جونیئر جج جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ لے جانے کی ایک اور کوشش کے خلاف دوبارہ بھر پور مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ عائشہ کی جگہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دے دی جائے۔
یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی ترقی کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے کے لیے 5 جنوری 2022 کو اپنا اجلاس طلب کیا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر غور کرنے اور حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پاکستان بار کونسل نے 3 جنوری کو اپنا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ ایک جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں لے جانے کی کوشش ناکام بنائی جا سکے۔ اس سے پہلے 9 ستمبر 2021 کو ہونے والے جوڈیشل کونسل آف پاکستان کے اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث عائشہ ملک کی ترقی مؤخر کر دی گئی تھی۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے اس اقدام پر شدید تحفظات اورتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججوں کی ترقی کے لیے سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کی کوشش قرار دیا تھا۔ 9 ستمبر کو جوڈیشل کونسل آف پاکستان کے آٹھ ارکان میں سے چار جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود، سابق جج دوست محمد خان اور پی بی سی کے نمائندے اختر حسین نے عائشہ ملک کی تقرری کی مخالفت کی تھی جبکہ چیف جسٹس، سینئر جج جسٹس عمر عطا بندیال، وزیر قانون بیرسٹر فرخ نسیم اور اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے جسٹس عائشہ ملک کی حمایت کی تھی۔ اس موقع پر جے سی پی کے ایک اور رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وقت ملک سے باہر تھے اس لئے وہ اپنا ووٹ نہیں دے سکے تھے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے تمام ایگزیکٹو کمیٹیوں کے وائس چیئرمینز، جے سی پی کے وکلا اراکین، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور صوبائی اور اسلام آباد بار کونسلز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کو 3 جنوری کو بلائے گے اجلاس میں شرکت کے لیے خط لکھا ہے۔ مختلف بار ایسوسی ایشنز کو جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ اجلاس جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا جسے انہوں نے سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ خط میں یاد دہانی کروائی گئی کہ کس طرح چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی سمیت تین سینئر ججوں کی پروفائل رد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ سے جونیئر جج کا نام دوبارہ تجویز کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جے سی پی 5 جنوری کو جے سی پی کی جانب سے مسترد کیے گئے نام پر غور کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے، جس کے پیش نظر وکلاء کا مشترکہ اجلاس بلایا جارہا ہے تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ دوسری جانب پی بی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں سنیارٹی اصول پر عمل کرنے سے متعلق پی بی سی کے وائس چیئرمین کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج شروع کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ وکلاء کمیونٹی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ سے ملک کی جگہ سب سے زیادہ مستحق جج ترقی دی جانی چاہیے وہ سینئر جج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ ہیں لہٰذا سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے جے سی پی کی جانب سے جسٹس اطہر من اللہ کو نامزد کیا جانا چاہیے تھا۔

Back to top button