جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس میں صدر علوی کیسے استعمال ہوئے؟

سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کئے جانے کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر مملکت اگرچہ یہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے اپنے قانونی مشیر سے رائے لے سکتے تھے لیکن انہوں نے طاقتور حلقوں کے دباؤ پر اس کی فوری منظوری دے کر ثابت کیا کہ ایسے حساس معاملات میں پریزڈینسی محض ایک ڈاکخانے کا کام کرتی ہے۔ جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس نے نہ صرف صدر عارف علوی کی ساکھ خراب کی ہے بلکہ اپوزیشن کو یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ ان کے استعفی کا مطالبہ کرے۔ یعنی کرے کوئی اور بھرے کوئی۔
قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس عیسی کے خلاف ریفرنس بھجوانے میں صدر علوی کا کردار ایک پوسٹ آفس کا سا نظر آتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد کئے جانے سے یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ صدر کے آفس کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ طاقتور حلقے حکومت کی مدد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فارغ کروانا چاہتے ہیں کیونکہ سینئر ترین جج ہونے کے ناطے 2023 میں وہ چیف جسٹس آف پاکستان بن جائیں گے جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فائز عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلے سے ثابت ہوچکا کہ مقتدر حلقوں نے صدر اور وزیراعظم کے آفس کو استعمال کرکے جسٹس فائز عیسی کو گھر بھجوانے کی ایک چال چلی تھی تاہم یہ وار نہ صرف خالی گیا بلکہ الٹا حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کے خلاف یہی حربہ آزمایا تھا تاہم اس وقت صدسرتی ریفرنس کے بجائے اعلی عدلیہ کے ذریعے معزز جج کی پاکستانی خفیہ ایجنسی کے کردار کے حوالے سے ایک تقریر کا سوموٹو نوٹس لیا گیا اور یوں ایک ہی سماعت کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے بطور جج فارغ کروا دیا گیا۔
یاد رہے کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ان کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ایک سینیئر ترین افسر نے گھر آکر یہ پیغام دیا کہ الیکشن 2018 سے پہلے کسی بھی صورت نواز شریف یا مریم نواز کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے اور انھیں جیل میں رہنا چاہیے۔ اس معاملے پر تب کے چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لے کر جس شوکت عزیز صدیقی کو فارغ کروا دیا تھا۔ تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف شوکت صدیقی کی اپیل اب بھی زیر التوا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے اور اسکی وجوہات، جن کی بنیاد پر صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا گیا تھا، کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر عارف علوی، وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی بی سی کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے ڈاکٹر فروغ نسیم اور شہزاد اکبر پر عدلیہ کو بدنام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ پی بی سی کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز خاص طور پر یہ کہ صدارتی ریفرنس بدنیتی کے ساتھ داغدار تھا اور صدر آئین کے تحت اپنی غور شدہ رائے قائم کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے ریفرنس میں قانونی سوالات پر تیسرے فریق سے رائے نہیں لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد صدر کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا بنتا نہیں اور ان کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ماضی میں صدر مملکت کو آئین کی شق اٹھاون ٹو بی استعمال کرکے اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دلوایا گیا تھا تاکہ جب دل چاہے پارلیمنٹ پر کلہاڑا چلا دیا جائے۔ تاہم بعد ازاں اس جمہوریت دشمن شق کو آئین سے نکال دیا گیا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر مملکت کا عہدہ ایک بار پھر سے رسمی رہ گیا ہے اور جسٹس فائز عیسی کیس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ صدر کے آفس کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کروانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اب عدالت عظمیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور زبانِ زد و خاص و عام ہے کہ کیا پاکستان میں سربراہ ریاست یعنی صدرِ پاکستان کا دفتر محض ایک ڈاکخانہ ہے؟ قانونی ماہرین کے نزدیک عمومی تاثر یہی ہے کہ پاکستان میں سربراہ مملکت کا منصب عضوِ معطل سے زیادہ کچھ نہیں۔ عجب نہیں کہ جب ایوانِ صدر کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی جا رہی تھی تو صدر پاکستان کے ذہن میں بھی یہی خیال ہو۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صدر کے عہدے کا رسمی ہونے کا تاثر پارلیمانی نظام کا پیدا کردہ ہے جسے 18ویں ترمیم نے مزید پختہ کر دیا کہ وزیر اعظم جو چاہیں، صدر کو وہی کرنا ہے۔ صدر مملکت کی بے بسی کا تاثر آئین کے آرٹیکل 48 (ون) سے پیدا کیا جاتا ہے جس کے مطابق صدر مملکت اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی کے لیے وزیر اعظم یا کابینہ کے مشورے یعنی ایڈوائس کے پابند ہوں گے۔ صدر مملکت پندرہ دن کے اندر اندر وزیر اعظم یا کابینہ کو کوئی مسئلہ دوبارہ غور کے لیے واپس بھیج سکتے ہیں، اس کے بعد بھی اگر وزیر اعظم یا کابینہ اپنے مؤقف پر اصرار کریں تو صدر اسے تسلیم کرنے کے پابند ہوں گے یا ایک مخصوص وقت یعنی دس روز بعد کے بعد وہ مشورہ از خود نافذ العمل ہو جائے گا۔یہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے صدر مملکت کی مجبوری کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن آئین کی اسی دفعہ کے تحت پندرہ اور دس دن کا دورانیہ دراصل وہ گنجائش پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے صدر اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم یا کابینہ کو ان کا فیصلہ تبدیل کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں اور بعض اوقات اس میں کامیابی بھی ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ سربراہ ریاست کی حیثیت سے صدر مملکت کا منصب کسی بھی مقدمے میں اپیل کا آخری فورم ہے۔ سزائے موت کے فیصلوں کے علاوہ وفاق کے زیر اہتمام پانچ مختلف محتسبوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل بھی صدر مملکت ہی کے پاس آتی ہے۔ سزائے موت اور اس کی معافی کی سمری وزارت داخلہ کے ذریعے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم ہی صدر مملکت کو بھیجتے ہیں۔صدر مملکت ایسے معاملات میں کسی سمری پر عملدرآمد کے پابند نہیں ہوتے، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا ذہن استعمال کر کے فیصلہ کریں کہ کسی اپیل کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت کے ایک قانونی مشیر ایوان صدر میں کام کرتے ہیں جنھیں ان ججوں کے مساوی ہی تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل ہوتی ہیں۔یہ قانونی ماہر ہر معاملے کا آئین اور قانون کی روشنی میں جائزہ لے کر صدر مملکت پر معاملہ واضح کرتے ہیں۔اب سول پیدا ہوتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں کیا ہوا؟اس سمری کا شمار غیر معمولی طور پر حساس اور ایسے معاملات میں کیا جا سکتا ہے جن کا تعلق حکومت کے نازک امور سے ہوتا ہے یعنی راز داری اور جلدی، لیکن ایسے ہی معاملات ہوتے ہیں جن کے لیے ایوان صدر کو قانونی اور آئینی پہلوؤں کے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا جاتا ہے اور اسی مقصد کے لیے آئین نے پندرہ روز کی مہلت رکھی ہے۔اس معاملے میں کیا ہوا ؟ اس ضمن میں جو اطلاعات دستیاب ہیں، ان سے یہی واضح ہے کہ ایوان صدر سے معاملہ جلد نمٹنانے کی خواہش کی گئی تھی۔ یہ خواہش اتنی شدید تھی کہ روایت کے مطابق یہ معاملہ ایوان صدر میں موجود قانونی دماغوں تک نہ پہنچ سکا اور یہ سمری بھی روز مرہ کی سمریوں کی طرح نمٹا دی گئی۔آئینی ماہرین کو یقین ہے کہ اس معاملے میں ایوان صدر کے مشیر قانون کو متحرک ہونے کا موقع ملتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔
سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل اور ایسی آئینی اور قانونی نزاکتوں کی مہارت رکھنے والے قانون داں وقار اے شیخ کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ نے اس ریفرنس کو غیر آئینی قرار دینے کے لیے جن گیارہ نکات کی نشاندہی کی ہے، وہ اتنے واضح اور نمایاں ہیں کہ قانون سے معمولی شد بد رکھنے والا کوئی بھی شخص بھی ان کی بنا پر یہی فیصلہ کرتا کہ یہ ریفرنس قانونی طور پر وزن نہیں رکھتا۔ اگر یہ پراسس مکمل ہو جاتا تو تاریخ مختلف ہوتی اور صدر مملکت کو یہ نہ سننا پڑتا کہ انھوں نے اس سلسلے میں اپنا ذہن استعمال نہیں کیا اور تیسرے فریق سے بامعنی مشاورت نہیں کی۔ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس قسم کا ریفرنس تیار ہو گیا اور کسی سطح پر بھی اسے قانونی طور بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی گئی؟اس حوالے سے وقار اے شیخ کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد دور ہے۔ موجودہ سیٹ اپ میں کسی میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ طاقت کے دو مراکز یعنی بنی گالہ اور اس کے دوسری طرف یعنی اسٹیبلشمنٹ سے آنے والی کسی خواہش کے جواب میں کوئی صائب مشورہ دے سکے، یہی سبب ہے کہ غلطی پر غلطی ہوتی چلی جاتی ہے اور ہر آنے والے دن کسی نئی شرمندگی کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔
