کپتان کے کھسی انٹرویو پر صحافتی گھس بیٹھیوں کی ٹرولنگ

خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کی بنیاد پر ٹی وی اینکرز بن جانے والے چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر وزیراعظم عمران خان کا ایک انٹرویو کرنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کر رہے ہیں کیوںکہ ناقدین کا خیال ہے کہ وہ انٹرویو کرتے وقت یہ بھول گئے کہ ان پر صحافی ہونے کا الزام ہے اور ان کا کام سوالات کرنا تھا، وزیراعظم کی تعریف کرنا نہیں۔
اے آر وائی کے لیے کیے جانے والے اس انٹرویو کی اہم ترین بات یہ تھی کہ دونوں اینکر حضرات نے کوئی ایک بھی ایسا سوال کرنے کی جرات نہیں کی جس کے جواب میں عمران خان کوئی خبریت والی بات کردیتے۔ لہذا یہ انٹرویو کسی بریکنگ نیوز کی وجہ سے نوٹس ہونے کی بجائے ان دونوں اینکر حضرات کی جانب سے اپنے محبوب وزیراعظم کی تابڑ توڑ اور مسلسل تعریفوں کے پل باندھنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔
جہاں کئی سوشل میڈیا صارفین نے ایسا انٹرویو کرنے پر چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر کو صحافت کی کالی بھیڑیں قرار دیا ہے وہیں کئی دیگر صارفین نے اختلاف کرتے ہوئے انہیں صحافتی بھیڑیے قرار دے دیا ہے۔ لیکن کچھ صارفین کا خیال ہے کہ چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر ٹائپ کے سرکاری ای کر نہ تو بھیڑیں ہیں اور نہ ہی بھیڑیے، بلکہ یہ صحافتی گھس بیٹھیے ہیں جن کی وجہ سے تمام میڈیا کی ساکھ کا جنازہ نکلتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر کو یہ انٹرویو پرواسٹیبلشمنٹ نیوز چینل اے آر وائی کے لیے دیا۔ وزیرِ اعظم حالیہ ہفتوں میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک شروع ہونے کے بعد سے کچھ نیوز چینلز پر اپنے مخصوص اور پسندیدہ اینکرز کو انٹرویو دیتے نظر آ رہے ہیں۔ اُن کے انٹرویوز میں دیے گے جوابات کے مختلف کلپس نکال کر عمران خان کے حامی اور انکے مخالفین سبھی ان ویڈیوز کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر ایسا ہی ایک حالیہ انٹرویو عمران خان کے جوابات سے زیادہ چوہدری غلام حسین کی سوالات کی بنا پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ یہ انٹرویو کم تھا اور اور اینکر کی طرف سے وزیراعظم کی مدح سرائی کا سیشن زیادہ لگتا تھا۔ انٹرویو کے دوران ماحول کچھ ایسا رہا کہ چوہدری غلام حسین اور ان کے ساتھی صابر شاکر سوالات سے پہلے وزیراعظم کی تعریف کے لمبے لمبے پل باندھتے اور پھر ایک نرم سا سوال کر دیتے جس کے جواب میں عمران خان اپنی حکومت کے شاندار کارنامے گنواتے ہوئے اپنی تعریفوں کے پل باندھتے سنائی دیے۔ اس دوران وزیر اعظم کو مسکراتے اور شرماتے دکھائی دیے۔
اس انٹرویو کے ایسے بہت سارے کلپس میں سے ایک کلپ جو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ وائرل ہوا، اس میں چوہدری غلام حسین وزیر اعظم سے ایک سوال پوچھنے سے قبل کم از کم ڈیڑھ منٹ تک عمران خان کی تعریف اور ان کے قصیدے بیان بیان کرتے ہیں جس کے بعد وہ ایک پھسپھسا سا سوال پوچھنے کا تکلف بھی کر لیتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی روش ان کے ساتھی اینکر صابر شاکر نے بھی اپنائی۔ یاد رہے کہ یہ دونوں اینکر پاکستانی صحافت میں برساتی مینڈک کہلائے جاتے ہیں اور ہر دور حکومت میں ایجنسیوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو کرنے کی بجائے ان کی قصیدہ گوئی کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ کپتان اور اینکرز کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے۔ انٹرویو سے پہلے بھی کپتان نے جن صحافی حضرات کو انٹرویو دیے ہیں وہ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اے آر وائی پر چلنے والے اس تاریخی اور تعریفی انٹرویو پر صحافیوں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ کسی نے اسے ‘ننگی خوشامد’ قرار دیا تو کسی نے اسے کپتان کا چپل چاٹ انٹرویو قرار دے۔ کچھ صحافی حضرات کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے عمران خان انٹرویو دینے کی بجائے اے آر وائی کے ان دونوں نام نہاد صحافیوں کا انٹرویو لے رہے ہیں۔ لندن میں مقیم صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ‘اینکر وزیرِ اعظم عمران خان کو اُن کی حکومت کی کامیابیاں اور ان کی ڈالی گئی مضبوط بنیادوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہ انٹرویو کم تھا اور دو طرفہ تعریف کا سیشن زیادہ لگتا تھا۔
صحافی نذرالاسلام نے لکھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا اس چینل میں شمولیت اختیار کر لی ہے کیونکہ لگتا ہے کہ وہ چوہدری غلام حسین کا انٹرویو لے رہے ہیں، دے نہیں رہے‘۔ انگریزی اخبار دی نیوز کے سینیئر ایڈیٹر طلعت اسلم نے کہا کہ اگلی مرتبہ جب کسی مستند صحافی کو تبدیلی پسندوں نے ٹرول کیا اور انھیں برے القابات سے نوازا، تو وہ ‘صحافت’ کے ان دو روشن میناروں کا نام لیں گے جن کی سرپرستی اُن کے باس عمران خان کرتے ہیں۔
صحافی علینہ شِگری نے لکھا کہ چوہدری غلام حسین اس طرح کے ناکام دور حکومت میں عمران خان کی حکومت کی تعریف کرنے پر کھڑے ہو کر تالیوں کے مستحق ہیں۔ علیمہ دراصل نادیہ نقی نامی صارف کو جواب دے رہی تھیں جو پوچھنا چاہتی تھیں کہ وہ آخر کہہ کیا رہے ہیں۔ صحافی اعجاز حیدر کے مطابق انھوں نے عمران خان کا انٹرویو دیکھا جو اس حوالے سے طلبہ کو ’یہ سمجھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کسی باعزت صحافی کو انٹرویو کیسے نہیں کرنا چاہیے۔‘
سمیع الحق نامی صارف نے ٹوئٹر پر عمران خان کو مخاطب کر کے لکھا کہ ’سر سچ بتائیں، کیا آپ انٹرویو لے رہے تھے یا آپ کا انٹرویو لیا جا رہا تھا۔‘ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹیو ایڈیٹر ضیاالدین کا خیال ہے کہ ایسے انٹرویوز نہ صرف اس شخص کے لیے نقصاندہ ہوتے ہیں جس کا انٹرویو کیا جا رہا ہے بلکہ اس سے صحافت کے پیشے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ویسے تو کسی بھی پروگرام کے بارے میں رائے قائم کرنا اس کے ناظرین پر منحصر ہوتا ہے جو پروگرام دیکھنے کے بعد اس کے اچھے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی عوام کے لیے لکھتے ہیں اور کسی مواد کے اچھے یا بُرے ہونے کا فیصلہ کرنا بھی پڑھنے والوں پر منحصر ہے۔ لیکن ماضی میں عالمی سطح پر بھی صحافت میں ایسے صحافی نما لوگ موجود رہے ہیں جنھوں نے غیر جانبداری سے کام نہیں لیا۔ انک۔کے خیال میں اگر کوئی غیر جانبدار ناظر ہے تو وہ جانبدار پروگرامز دیکھنے کے بعد تمام صحافیوں کو اسی طرح کی اقدار کا حامل تصور کرے گا جس سے صحافت کو مجموعی طور پر نقصان پہنچتا ہے۔
لیکن سوشل میڈیا پر بعض یوتھیا صارفین ایسے بھی تھے جنھیں یہ انٹرویو پسند آیا۔ ایسی ہی ایک خاتون زاہرہ لکھتی ہیں کہ ’انٹرویو بہت اچھا تھا کیونکہ اس میں چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر نے وزیر اعظم سے کسی قسم کا کوئی فضول سوال نہیں کیا’۔
