جماعت الدعوۃ کے 3 رہنماؤں کو مزید دو مقدمات میں سزائیں

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کو مزید 2 مقدمات میں ساڑھے چودہ، چودہ سال قید کی سزائیں سنا دیں۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج ارشد حسین بھٹہ کی عدالت میں جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف سی ٹی ڈی کی طرف سے لاہور اور سرگودھا میں درج مقدمات 23/19 اور 41/19 کی سماعت ہوئی۔گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے دونوں مقدمات میں جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو ساڑھے 14،14 سال جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن مکی کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔گواہوں کے بیانات پر حافظ محمد سعید و دیگر رہنماﺅں کے وکیل نصیرالدین نیئر اور محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جرح کی گئی۔انسداد دہشت گردی عدالت میں جماعت الدعوۃ کے رہنماﺅں کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کو اس سے قبل بھی 3 درجن سے زائد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔اس سے قبل کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سپر ہائی وے پر قائم مسجد کے امام کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے لیے فنڈز جمع کرنے پر 25 سال قید کی سزا سنادی تھی۔عدالت نے صوبائی محکمہ تعلیم کو ملیر میں قائم مدرسے کو ضبط کرنے اور مسجد کا انتطام سنبھالنے کا بھی حکم دیا، جسے ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی غرض سے پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
لاہور کی ہی انسداد دہشت گردی عدالت نے غیر قانونی فنڈنگ کیس میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو مجموعی طور پر ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنادی تھی۔واضح رہے کہ جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں پر کُل 41 مقدمات درج ہیں۔
