جنرل امجداسرائیل کا وکیل کیوں بن گیا؟


فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بھونپو سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مطالبے سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ انہیں یہ چورن بیچنے کی ذمہ داری انکے باسز نے ہی دی ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں جنرل (ر) امجد شعیب ایک تعلیمی ادارے میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ بھارت سے ہماری دشمنی ہے لیکن ہم اس کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل سے ساری دنیا تعلقات بڑھا رہی ہے، لیکن ہمارے ہاں لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں جس کی کوئی ٹھوس وجہ سمجھ نہیں آتی خصوصا جب عرب دنیا بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے چل پڑی ہے۔ امجد کے لیکچر سے ناقدین یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ دراصل فوجی اسٹیبلشمنٹ درپردہ اسرائیل کو جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس لئے امجد شعیب جیسے لوگوں کو عوام کی ذہن سازی کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب اور دو سینئر صحافیوں کامران خان اور مبشر لقمان نے پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان لوگوں کے علاوہ بھی پاکستان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی وکالت کرنے والے بااثر افراد کی کمی نہیں۔ ان میں کئی ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہیں جو ویسے تو پاکستان کو اسلام کا قلعہ ثابت کرنے میں پیش پیش رہے ہیں لیکن اسرائیل کے معاملے پر عملیت پسندی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
جنرل امجد کی جانب سے پرو اسرائیل بیان دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے ناقدین کہتے ہیں کہ موصوف کا پیمانہ یہ ہے کہ جب دنیا کے دیگر ممالک خصوصا عرب دنیا اسرائیل کو تسلیم کر رہی ہے تو ہیں بھی ایسا کر لینا چاہیئے۔ یاد رہے کہ اسی لیکچر میں جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انکشاف کیا کہ تھا کہ میں زمبابوے میں تھا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا آپ پاکستان سے ہیں؟ میں نے کہا ہاں، تو اس نے بتایا کہ وہ زمبابوے میں اسرائیل کا سفیر ہے۔ اس نے پوچھا کہ آپ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ اگر عربوں کی وجہ سے کرتے ہیں تو ان سب نے تو ہم سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں، خواہ غیر رسمی ہی ہوں۔ اب تو خیر عرب ممالک کی جانب سے باقاعدہ تعلقات کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی سفیر نے امجد شعیب کو کہا کہ اسرائیل بہت سے معاملات میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر رسمی تعلقات نہیں بھی رکھنے کہ دونوں ملکوں کے سفرا ایک دوسرے کے ملک میں موجود ہوں تو غیر رسمی تعلقات، مثلاً آنا جانا وغیرہ تو شروع کریں۔
اس انکشاف کے بعد جنرل امجد شعیب نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کے معاملے پر ہمیں ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اگر تو مولویوں کے پیچھے چلنا ہے تو 70 سال میں تو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ اگر آج کی دنیا اور آج کے حالات کے مطابق سوچیں تو اس معاملے پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میری ذاتی رائے میں اسرائیل اپنا سفیر نہ بھی بھیجا جائے تو بھی ہمیں اسکے ساتھ تجارت شروع کردینی چاہیے۔ انکا۔کہنا تھا کہ امریکہ میں ہر اچھا ڈاکٹر یہودی ہے۔ وہاں ہم پاکستانی علاج بھی کرواتے ہیں، لیک کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ یہودی ڈاکٹر مجھے ہاتھ نہ لگائے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل پر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک اصولی مؤقف ہے جو آج سے نہیں، دہائیوں سے جوں کا توں ہے۔ وہ موقف یہ ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات اس لئے قائم نہیں کرنے چاہئیں کہ یہ فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے بنایا گیا ایک ملک ہے اور بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے کسی صورت اس کو جائز ریاست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس سے بھی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ ملک فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے بنایا ہی نہیں گیا بلکہ 1948 سے اب تک مسلسل انہیں ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے یہاں ایک مخصوص نسل کے یہودیوں کی آبادکاری کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کو دنیا بھر میں جب بھی اس ظالمانہ پالیسی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی جانب سے یہی جواب دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اسرائیل چھوڑ کر عرب ملکوں میں چلے جائیں اور عرب ممالک انہیں قبول کر لیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ یہاں کے مقامی باشندوں کی زمین ہے جس سے انہیں بے دخل کرنا کسی صورت جائز یا قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ ناجائز اور غیر قانونی ہے۔ اب تو یورپی یونین اور عام امریکی پبلک بھی اسرائیل کی اس غیر قانونی پالیسی کے خلاف صف آرا ہونے لگی ہے۔
ناقدین گلہ کرتے ہیں کہ ایسے میں امجد شعیب جیسے لوگ ان سوالات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے چاہتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر لے جو کہ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کی بھی نفی ہے کیونکہ محسنِ پاکستان نے واشگاف الفاظ میں کہہ رکھا ہے کہ “اسرائیل مغربی طاقتوں کا ناجائز بچہ ہے۔ ہم انشا اللہ کبھی اسے تسلیم نہیں کریں گے”۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ امجد جیسے جرنیل آئے روز دوسروں پر الزامات لگاتے ہیں کہ انہیں امریکہ سے پیسے مل رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے سابق باس اور لیڈر جنرل مشرف کے نقشِ قدم پر عمل کر رہے جس نے اپنے دورِ صدارت میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوششیں کی تھیں اور اپنے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو تل ابیب بھی بھیجا تھا۔

Back to top button