جنرل قمر باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیوں کیا؟


18 اکتوبر کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے انٹرسروسز انٹیلی جینس ہیڈکوارٹرز کے اچانک دورے کو عسکری حلقوں میں خاصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے خصوصا جب وزیراعظم عمران خان نے جنرل ندیم احمد انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی اور جنرل فیض حمید کی بطور کور کمانڈر پشاور تقرری کے نوٹیفکیشن روک رکھے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کا استقبال کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ‘داخلی سیکیورٹی اور افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی’۔ بیان میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
کہا جارہا ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے دورے کا ایک مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ چین آف کمانڈ کے اصول کے تحت ڈی جی آئی ایس آئی آرمی چیف کا ماتحت ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ آرمی چیف نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جب فوج اور حکومت کے درمیان خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی کے معاملے پر اختلاف کا تاثر پایا جاتا ہے۔ فوج کی جانب سے 6 اکتوبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور مقرر کردیا گیا تھا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ان کی جگہ آئی ایس آئی کا نیا سربراہ تعینات کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے تاحال لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، جس پر سول-عسکری چپقلش کے بارے میں افواہیں پھیل گئیں۔ بعد ازاں 12 اکتوبر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے چہ مگوئیوں پر کہا تھا کہ آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی کی صوابدید وزیراعظم کی ہے اور اس حوالے سے قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ رات وزیراعظم اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی، آرمی چیف اور وزیراعظم کے آپس میں بہت قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے ضمن میں بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان کی سول اور ملٹری کے درمیان بہت آئیڈیل تعلقات ہیں، وزیر اعظم آفس کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے پاکستان کی فوج یا پاکستان کے سپہ سالار کی عزت میں کمی ہو اور پاکستان کی فوج یا سپہ سالار بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے وزیر اعظم یا سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی ہو۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف دونوں کا ایک دوسرے سے قریبی رابطہ اور تعلق ہے، نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور اس پر بھی دونوں کا اتفاق رائے ہے’۔
اسکے بعد وزیرداخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان حل ہوگیا ہے اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی تقرری جلد ہو گی۔ حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختلاف کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا موجودہ ماحول اچھا ہے اور کہا کہ ‘چندعناصر کی جانب سے انتہائی حساس اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہیں’ جو قابل افسوس ہیں۔
تاہم فواد چودھری اور شیخ رشید کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ابھی تک نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفیکیشن نہیں ہو پایا اور ملک افواہوں کی زد میں ہے۔ ایسے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی جانب سے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے دورے کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ان کی جانب سے اپنی اتھارٹی کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔

Back to top button