جنرل قمر باجوہ کو توسیع عمران خان دیں گے یا نواز شریف؟


اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبر گرم ہے کہ اگر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے میں ایک اور توسیع لینی ہے تو پھر موجودہ سیاسی سیٹ اپ برقرار رہنے کے امکانات کافی کم ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان اس مرتبہ توسیع دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ لہذا اگر موجودہ سیٹ اپ لپیٹا جاتا ہے اور نئی حکومت اقتدار میں لانی ہے تو پہلے جنرل قمر باجوہ کو توسیع کی یقین دہانی کروانا ہوگی۔ وفاقی دارالحکومت میں زیر گردش افواہوں کے مطابق شاید یہی وہ اہم ترین نکتہ ہے جس پر ابھی مذاکرات جاری ہیں اور اتفاق رائے ہونے کا انتظار ہے۔ یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے ہی ایک توسیع حاصل کر چکے ہیں اور اب نومبر 2022 میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ تاہم عسکری حلقوں کا کہنا ہے یہ تمام قیاس آرائیاں قبل از وقت ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں تبدیلی کی افواہیں زور پکڑتی جارہی ہیں اور وزیراعظم عمران خان خود اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس لا کر چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے حالیہ بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا مقتدر حلقے واقعی موجودہ حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور سیاسی تبدیلی کے امکانات بڑھ رہے ہیں؟ نواز شریف اور آصف زرداری کے قریبی حلقوں کی جانب سے یہ دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ مقتدر حلقے اُن کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کپتان کا جانا ٹھہر چکا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے 23 دسمبر کو لندن سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں سے کہا تھا کہ بہت جلد آپ سے پاکستان میں ملاقات ہو گی۔ خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم نومبر 2019 میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے۔ دوسری جانب آصف زرداری کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اب عمران خان کو برسر اقتدار لانے والے مایوس ہو کر ہم سے مدد مانگ رہے ہیں، لیکن ہمارا وہی مطالبہ ہے کہ پہلے اس کی چھٹی کریں پھر بات ہو گی۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ دونوں بڑے سیاسی قائدین اپنے بیانات سے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سرد مہری بڑھ رہی ہے۔
سینئر صحافی مظہر عباس کی رائے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ خواہ وہ بیک ڈور ہو، رابطے ہمیشہ رہتے ہیں کیوں کہ بلاشبہ نواز شریف اور آصف زرداری اب بھی پاکستانی سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ عام طور پر اِس طرح کی خبریں اُس وقت آتی ہیں جب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے تعلقات میں تھوڑی سرد مہری آ جاتی ہے۔ لیکن اِس کے نتیجے میں اُن کے بقول کوئی بہت بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ مظہر کے بقول مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اِس بات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئندہ انتخابات میں غیر جانب دار رہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اِن بیانات کا مطلب ہے کہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اِن بیانات کے پیچھے کوئی پس منظر ہو گا، اگلے اتنخابات یا اگلے سیٹ اپ سے متعلق کوئی مذاکرات ہو رہے ہوں گے۔ لیکن اِن سب میں کتنی حقیقت ہے اس کا کہیں سے بھی کوئی واضح اشارہ یا ثبوت نہیں ملا۔ سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے بیانات کی وجہ سے متحرک اور مقبول رہنا چاہتی ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ وہ عوام میں مقبولیت رکھتی ہیں۔
سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے یہ بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اب قریب ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ فرض کریں اگر موجودہ حکومت قائم رہتی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہی حکومت اگلے آرمی چیف کا تقرر کرے گی۔ اگر موجودہ حکومت اُس سے پہلے رخصت ہو گئی تو ظاہر ہے کہ نیا آرمی چیف بھی نئی حکومت لگائے گی۔
دوسری جانب عمران خان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی اقتدار کی مدت پوری کریں اور جنرل فیض حمید کو اگلا آرمی چیف مقرر کریں تاکہ اگلے الیکشن میں ان کی جیت کے کچھ امکانات بن جائیں۔ ایسے میں اپوزیشن کی یہ خواہش ہوگی کہ عمران خان اپنی مدت پوری نہ کریں اور اگلا آرمی چیف نئی حکومت مقرر کرے۔ اس صورتحال میں اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے میں ایک اور توسیع لینا چاہتے ہیں تو انہیں بھی عمران خان کا مدت پوری کرنا سوٹ نہیں کرتا کیونکہ وہ اب جنرل باجوہ کو مزید وقت دینے کے لیے تیار نہیں۔ لہذا اپوزیشن قیادت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے میں ایک بنیادی نکتہ آرمی چیف کے مدت ملازمت میں توسیع کا بھی ہے۔ لہذا خیال کیا جارہا ہے کہ جیسے ہی اپوزیشن قیادت خصوصا نواز شریف کی جانب سے توسیع کی یقین دہانی ملے گی، حکومت کی تبدیلی کا عمل فوری شروع ہو جائے گا۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان کو اقتدار ہاتھ سے نکلتا دکھائی دیا تو وہ کرسی بچانے کی خاطر اپنے موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کو دوبارہ توسیع دینے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔

Back to top button