جنرل نیازی کے 16 دسمبر سے عمران نیازی کے 5 اگست تک

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر پاکستانیوں کو بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے بھگوڑے جنرل نیازی کی یاد دلاتا ہے جبکہ 5 اگست عمران نیازی کی یاد دلایا کرے گا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے اس پر قبضہ کرلیا اور عمران کی حکومت نے مودی سے یاری کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں حامد میر لکھتے ہیں کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی خاص طور پر اپنی دھرتی کے غداروں کو۔خدارا وہ دن نہ آئے جب پانچ اگست 2019 کو بھارتی تاریخ میں وہی اہمیت حاصل ہو جائے جو 16 دسمبر 1971 کی بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنی ناکامیوں کا خوف نہیں رہا۔ انہیں یقین ہے کہ بادشاہ گروں کے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں اور اسی لئے انہوں نے بے خوف ہو کر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یار بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جس مودی کو عمران خان پچھلے سال تک ہٹلر کہا کرتے تھے، اب اس مودی کو عمران نیازی کی جانب سے خط لکھ کر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی کوئی بری بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جب کوئی منتخب وزیر اعظم بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کرتا تھا تو عمران نیازی اور ان کے عسکری سرپرست اسے غدار کیوں قرار دے دیتے تھے؟ یاد کیجئے فروری 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے۔ مینار پاکستان پر گئے اور پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کی۔ جواب میں مشرف کی جانب سے کارگل کی جنگ چھیڑ دی گئی اور اکتوبر 1999میں بس ڈپلومیسی کے روح رواں وزیر اعظم نواز شریف کو حکومت سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی لاہور آئے اور پاکستان سے دوستی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا لیکن کچھ عرصہ بعد نواز شریف کو مودی کا یار قرار دے کر پھر سے ان کی چھٹی کر دی گئی۔انکا کہنا ہے کہ خود چل کر پاکستان آنے والے مودی کو عمران نیازی نے پہلے نواز شریف کا یار قرار دیا اور پھر ہٹلر قرار دیا۔ لیکن اب اچانک یہی مودی عمران نیازی کا یار بن گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو محبت نامے لکھ رہے ہیں۔ حامد میر یا دلاتے ہیں کہ جب واجپائی اور مودی نواز شریف کے ادوار میں دوستی کا پیغام لیکر لاہور آئے تھے تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم نہیں ہوا تھا۔ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختاری ختم کر کے اس پر باقاعدہ آئینی قبضہ کر لیا، ساری کشمیری قیادت کو جیلوں میں پھینک دیا۔
عمران نیازی نے کچھ دن تک ہٹلر ہٹلر کا شور مچایا اور اب ہٹلر سے پیار محبت شروع کر دیا ہے۔ مودی کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ کرو اور کشمیریوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دو۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان نے مودی کے نام اپنے حالیہ خط میں کشمیر کا ذکر تو کیا ہے لیکن بھارتی جیلوں میں بند کشمیری قیادت کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مودی حکومت نے 2007 کے مشرف فارمولے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پاکستان میں بھی اس فارمولے کو نیا نام دیکر میڈیا میں سیلز ایجنٹ تلاش کئے جا رہے ہیں تاکہ پروڈکٹ کو عوام کیلئے قابلِ قبول بنایا جائے۔ لہٰذا نظر یہ آ رہا ہے کہ عمران نیازی کا اصل مسئلہ اب مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر ہے جہاں جلد نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن بھلے عمران نیازی کو کشمیر فروش قرار دیتے رہیں لیکن خان صاحب کو ہر خوف سے آزادی مل چکی ہے کیونکہ ان کے مخالفین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ خدا نہ کرے وہ دن آئے جب 5 اگست کی بھارت میں وہ اہمیت ہو گی جو 16دسمبر کی بنگلہ دیش میں ہے 16دسمبر کسی جنرل نیازی کی یاد دلاتا ہے 5 اگست عمران نیازی کی یاد دلایا کرے گا۔
