کیا کپتان کی ٹیم نکمی ہے یا وہ خود بھی نا اہل ہے؟

عمران خان کی زیر قیادت جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے کپتان اپنی ٹیم میں مسلسل ردوبدل کر رہے ہیں اور کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میں حکومتی ٹیم کسی تبدیلی کا شکار نہ ہو۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں کے باوجود کپتان اور ان کی ٹیم ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے جسکا خمیازہ پاکستانی عوام تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ ملکی معیشت تو دور کی بات، کسی گھر کی معاشی حالت خراب ہو تو وہ بھی برباد ہو جاتا ہے جس کی ذمہ داری گھرانے کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔
یہاں 2018 کے الیکشن کے بعد سے اب تک وزیر اعظم عمران خان اب تک کوئی ایک بھی ایسا اہل شخص نہیں ڈھونڈ پائے جو ملکی معیشت چلا پائے۔ پہلے انہوں نے اسد عمر کو وزیر خزانہ بنایا لیکن انکی ناکامی کے بعد وزارت بدل دی اور امپورٹڈ حفیظ شیخ کو لے آئے۔ کچھ عرصہ تو کپتان حفیظ شیخ کی کامیابیوں کا ڈھونڈرا پیٹت رہے لیکن پھر اچانک انہیں بھی ناکام قرار دے کر حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ بنا دیا۔ لیکن ابھی حماد اظہر نے بطور وزیر خزانہ پہلی ہی پریس کانفرنس کی تھی کہ شوکت ترین کے حوالے سے یہ اطلاع گئی کے اب وہ پاکستانی معیشت کے نگہبان ہوں گے اور حماد اظہر انکا ساتھ دیں گے۔ ایسے میں عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ تجربات کا یہ لامتناہی سلسلہ کب ختم ہو گا جسکی قیمت وہ جان لیوا مہنگائی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ٹیم کا کپتان ہیں نکما ہے؟
عجیب بات یہ ہے کہ کپتان نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد جن لوگوں کو آل راؤنڈر یا اٹیک باؤلر یا اوپنگ بیٹسمین قرار دے کر ٹیم میں شامل کیا تھا، اچانک انہیں ہی 12واں کھلاڑی قرار دے کر پانی پلانے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے یا پھر انہیں ان فٹ قرار دے کر ٹیم سے باہر کردیا جاتا ہے۔ لیکن پھر کچھ عرصے بعد انہیں بڑی دھوم دھام سے دوبارہ ٹیم کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں کہ جنہیں ٹیم کا حصہ تو بنالیا جاتا ہے مگر کپتان ان سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک فرد کو کپتان نے ملے بغیر ہی ٹیم کا حصہ بنایا اور پھر پاکستان کے خزانوں کی کنجی ان کے حوالے کردی۔
عبدالحفیظ شیخ کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے کپتان نے اپنے پوسٹر کھلاڑی اسد عمر کو واٹس ایپ پر میسج کرکے فارغ کردیا تھا۔ اس طرح فارغ کیے جانے پر اسد عمر بہت پریشان بھی ہوئے تھے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ایک سابق فوجی جرنیل کی بیٹے اسد عمر نے جھنڈے والی گاڑی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بنی گالہ کے بجائے دیگر ذرائع استعمال کیے اور ایک دوسری وزارت حاصل کر لی۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کا ایجنڈا لیکر چلنے والے حفیظ شیخ کو تقرری کے 2 سال مکمل ہونے پر اچانک عہدے سے فارغ کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ان کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ اب سچ تو یہ ہے کہ مہنگائی تو 2018 میں عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حفیظ چند ہفتے قبل تک وفاق سے سینیٹ کی نشست کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار بھی تھے۔ کپتان نے عبدالحفیظ شیخ کو جتوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ناکامی کے باوجود بھی کپتان نے حفیظ شیخ کو اپنی ٹیم کے حصہ بنائے رکھا۔ پھر حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے قرض کا پروگرام بحال کروایا اور اس کام کے فوری بعد انہیں یہ کہہ کر فارغ کردیا گیا کہ وہ مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو حفیظ شیخ پر ہر الزام لگ سکتا ہے، لیکن مہنگائی کا الزام نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر معیشت اوور ہیٹ ہو تو یہ کام اسٹیٹ بینک کا ہے اور اگر اجناس کی فراہمی کا معاملہ ہو تو یہ کام وزارتِ فوڈ سیکیورٹی یا صوبائی حکومتوں کا ہے اور اس لحاظ سے مہنگائی کے اصل ذمہ دار وزیراعظم عمران خان ہیں۔
یاد رہے کہ عبدالحفیظ شیخ جب بھی پاکستان آئے ہیں جھنڈے والی گاڑی پر ہی سوار ہوئے ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کو نکال دیا جائے تو وہ سال 2000ء سے لے کر اب تک کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ جس دور میں وہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو ملک سے باہر ہوتے ہیں۔
حفیظ شیخ کو بیرون ملک سے بلا کر سال 2000ء میں سندھ کے وزیر برائے مالیات اور منصوبہ بندی تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں مسلم لیگ (ق) کی نشست پر 2003ء میں سینیٹر منتخب کروایا گیا اور وہ 2003ء سے 2006ء تک وفاقی وزیر برائے نجکاری رہے۔ اس دوران انہوں نے ملک کے 30 سے زائد اثاثوں کو فروخت کیا مگر پی ٹی سی ایل کی نجکاری کا معاہدہ تاحال تکمیل کو نہیں پہنچ سکا ہے۔ بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں وفاقی وزیر برائے خزانہ ہی نہیں بلکہ انہیں سندھ سے سینیٹر بھی بنوایا۔ جس انداز میں عبدالحفیظ شیخ نے بطور وزیر کام کیا اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ وہ معیشت میں کسی طرح کی بہتری لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ ان کے دور میں معیشت کا وہی حال تھا جو اس وقت معیشت میں دیکھا جارہا ہے۔
کرکٹ کی دنیا میں کسی بھی کھلاڑی کی ریکارڈ بک بہت اہم ہوتی ہے۔ عمران خان اگر عبدالحفیظ شیخ کی پیپلز پارٹی کے دور کی ریکارڈ بک اٹھا کر دیکھ لیتے تو شاید وہ ان کی تقرری ہی نہ کرتے اور یوں قوم کے 2 سال ضائع بھی نہیں ہوتے۔ اگر لحفیظ شیخ کے خلاف چارج شیٹ تیار کی جائے تو سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ معیشت میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ ٹیکس بیس اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کرسکے اور ٹیکس کا بوجھ انہی افراد پر ڈالا گیا جو پہلے سے ٹیکس دہندہ تھے۔ اسی طرح ایف بی آر میں اصلاحات نہ ہوسکیں اور نہ ہی ٹیکس نظام میں کرپشن ختم ہوسکی۔
دونوں ادوار میں صنعتی شعبہ بُری طرح متاثر ہوا اور منفی زون میں رہا ہے، بلکہ ان کی پالیسی کے سبب معیشت مسلسل سکڑتی رہی جس سے معیشت میں ملازمت کے مواقع پیدا ہونے کے بجائے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
اسوقت پاکستان کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ڈالر آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کا ہے اور دونوں ہی ادوار میں وہ معیشت کو اس قابل بنانے میں ناکام رہے جہاں معیشت میں ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔
نئے وزیر خزانہ حماد اظہر ایک سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں۔ وہ سال 2011ء میں پی ٹی آئی سے وابستہ ہوئے تھے اور 2013ء میں الیکشن ہار گئے تھے، لیکن 2018ء میں انہیں کامیابی مل گئی۔ تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے اب تک حماد اظہر کابینہ کا حصہ رہے ہیں مگر ان کے 4 سے زائد محکمے تبدیل ہوچکے ہیں۔ حماد کو وزیرِ مملکت برائے مالیات بنایا گیا اور اگلے ہی دن ان کا عہدہ وزیرِ مملکت سے بڑھا کر وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کردیا گیا۔ اس کے بعد صنعت و پیداوار کا قلمدان دے دیا گیا اور اب خزانے کی کنجی حماد اظہر کو تھمادی گئی ہے۔ لیکن اب اسی دوران شوکت ترین کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ وہ ملکی معیشت کو چلانے والے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ماضی میں حفیظ شیخ کی طرح شوکت ترین بھی پیپلز پارٹی کی وفاقی کابینہ کا حصہ رہے لیکن کوئی کامیاب پالیسی متعارف کروانے اور معیشت کو سہارا دینے میں ناکام نظر رہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وزارت خزانہ کا قلمدان کسی کو بھی دے دیا جائے مگر اس کے ہاتھ بھی آئی ایم ایف کے پروگرام کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ وہی پروگرام ہے جس کے لیے مذاکرات حفیظ شیخ نے کیے تھے اور جس کی منظوری کابینہ نے دے دی۔ اس پروگرام میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سب سے اہم اور ناگزیر شرط ہے۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا۔ہے اور حکومت کے پاس اس کو قابو کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ جس طرح حفیظ شیخ مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکامی پر نکالے گئے ہیں اسی طرح حماد اظہر بھی جلد یا بدیر اسی طرح کے کسی بوسیدہ اور ناقابلِ فہم الزام میں کابینہ سے الگ کیے جاسکتے ہیں اور شوکت ترین جیسوں کا انجام بھی کوئی مختلف نہیں ہوگا۔
