’’جنگ ہارنے کے باوجود ترقی کی منازل طے کرنے والی اقوام‘‘

دنیا بھر میں جنگیں جب بھی لڑی گئی ہیں، اس سے ہمیشہ تباہی اور جانی نقصان ہی ہوا ہے، جنگ ہمیشہ قوموں کیلئے سبق لے کر آتی ہے، جنگ جیتنے والی قوم بھی سبق سیکھتی ہے جبکہ جنگ ہارنے والی قوم زیادہ باشعور طریقے سے معاشرے میں واپسی کرتی ہے۔
اس کی مثال ہم ہندوستان کے معاشرے سے دیتے ہیں، ایک تو ہندوستان نے دوسرے ملکوں پر حملے نہیں کیے اور اس پر جو بیرونی حملہ آور ہوئے ان کا دائرہ اثر ایک خاص خطے تک محدود رہا، لیکن جب تیرہویں صدی میں ترک حملہ آور ہوئے تو انہوں نے پنجاب اور شمالی ہندوستان میں اپنا اقتدار قائم کر لیا، اس کے نتیجے میں ہندوستان کا معاشرہ زبردست سماجی کشمکش میں مبتلا ہوا اور اس کی ذات پات کی روایات میں تبدیلی آئی۔
برہمن ذات تو اعلیٰ و افضل رہی مگر کھشتری ذات غائب ہوگئی اور ان کی جگہ راجپوتوں نے لے لی لیکن ترکوں اور مغلوں کی وجہ سے نہ صرف مذہبی اور سماجی تبدیلیاں آئیں بلکہ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے متاثر ہوئے، مثلاً تارا چند کی کتاب ’انفلوینس آف اسلام آن انڈین کلچر‘ (Influence of Islam on Indian Culture) میں انہوں نے اسلام کے اثرات کا بیان کیا ہے جن سے ہندو سماج متاثر ہوا تھا۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنا اقتدار قائم کیا تو اس کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ان کی کون سی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنا دفاع نہیں کر سکے اور غیر ملکیوں کے ہاتھوں شکست خوردہ ہوئے اگرچہ ہندوستانی سوسائٹی کی کمزوریوں کا احساس کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی، اکثریت ان کی تھی جو قدامت پرستی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، چنانچہ جہاں ایک طرف اسلامی تحریکیں ابھریں، وہیں دوسری طرف قدامت پرستوں نے قدیم ماضی کو واپس لانا چاہا۔
یہ تصادم ہندو اور مسلمان دونوں معاشروں میں ہوا، لیکن اس تصادم کے نتیجے میں ذہنی تبدیلی بھی آئی اور ہندوستانی معاشرے نے عالمی تبدیلیوں سے بھی سیکھا۔کلونیل دور میں جدید نظریات کو ماننے والے اور قدامت پرست دونوں تھے۔ ان دونوں کا آپس میں تصادم ہوا اور ملک کی تقسیم کے بعد یہ تصادم آج بھی جاری ہے۔
دوسرا ملک چین تھا جس نے خود کو اپنی سرحدوں کے اندر بند کر لیا تھا، غیر ملکیوں کا چین میں داخلہ ممنوع تھا۔ انہیں چینی زبان سیکھنے کی اجازت نہ تھی۔ وہ صرف کینٹن کی بندرگاہ تک آ سکتے تھے۔ اگر کوئی خفیہ طور پر چینی زبان پڑھائے تو اس کی سزا موت تھی۔
اس سوچ کے نتیجے میں چینیوں نے بادشاہت کا خاتمہ کیا، جمہوریت کو لے کر آئے اورآخر میں سوشل ازم کے ذریعے انقلاب نے چین کو بدل ڈالا۔اس کی ایک اور مثال جرمن ریاست پروشیا کی ہے جو فوجی لحاظ سے یورپ کا طاقتور ملک تھا، لیکن جب 1806 میں نپولین نے انہیں شکست دی تو ان کے حکمرانوں نے اپنی شکست پر غور کر کے ریاست کی اصلاح کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پروشیا جرمنی کی سب سے زیادہ طاقتور ریاست بنی اور اسی نے 1871 میں جرمنی کو متحد کیا۔
بعض حالات میں حملہ آور مفتوح قوموں کی تہذیب کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو عربوں کی ہے۔ جب انہوں نے ملک شام کو فتح کیا تو یہاں بازنطینی سلطنت کی حکومت تھی۔ عربوں نے ان کی زبان اور کلچر کو اختیار کیا۔یہی صورت حال منگولوں کی تھی۔ جب وہ خانہ بدوشی سے نکل کر فاتح بنے تو جن قوموں کو انہوں نے مفتوح کیا تھا ان کی تہذیب اور کلچر کو اختیار کر لیا تھا۔ چنگیز خان نے اپنی آخری عمر میں اپنے بیٹوں کو بلا کر نصیحت کی تھی کہ وہ بالغ اور سمجھ دار ہیں، اس لیے جو مذہب بھی ان کے مفادات کو پورا کرے اسے اختیار کر لینا چاہئے۔
تاریخ میں فاتح اور مفتوح کے یہ رشتے ہر صورت میں تبدیلی کا باعث رہے ہیں، ان تصادم کی وجہ سے وہ معاشرے جو ایک جگہ ٹھہر گئے تھے۔ ان میں جنبش پیدا ہوئی اور وہ اس پر مجبور ہوئے کہ حالات کے تحت اندرونی تبدیلیاں لائیں اورفرسودہ روایات اور اداروں سے نجات پائیں۔
بعض حالات میں حملہ آور مفتوح ملکوں کو اس قدر برباد کر دیتے ہیں کہ ان میں دوبارہ سے ابھرنے کی توانائی نہیں رہتی ہے جیسا کہ افریقہ کے براعظم کے ساتھ ہوا۔ اس کے مردوں کو غلام بنا کر لے جایا گیا جس نے آبادی کے تناسب کو بگاڑ دیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افریقہ کے ملک آج بھی اپنی کھوئی ہوئی تاریخ، ماضی اور کلچر کو زندہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک نے ان کے مذہب کو بدل ڈالا۔ فرانسیسی، انگریزی، ڈچ اور پرتگیزی زبانوں کا تسلط کر کے ان کی اپنی زبانوں کی ترقی کو روک دیا، تاریخ قوموں کو سیکھنے کا موقع دیتی ہیں، اس کے بغیر قومیں اپنی راہ کا تعین نہیں کر سکتیں۔

Back to top button