جی سیون ممالک طالبان کو تسلیم کرنے پر آج غور کرینگے

صدر بائیڈن کا انخلا کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ آج متوقع ہے جبکہ جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس میں افغانستان کی صورت   حال پر غور کیا جائے گا ، امریکی صدر جو بائیڈن کا افغانستان سے ہزاروں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے انخلا کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر فیصلہ آج متوقع ہے۔انہوں نے اتوار کو کہا تھا کہ انخلا ’مشکل اور تکلیف دہ‘ ہو گا اور بہت کچھ توقع کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ صدر کے بقول امریکی افواج 31 اگست کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی انخلا مکمل ہونے تک ملک میں رہ سکتی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے پیر کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ صدر بائیڈن 24 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنی ہے یا نہیں۔امریکی وزارت دفاع کہہ چکی ہے ہزاروں امریکیوں، اتحادی ممالک کے شہریوں اور فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کی بحفاظت ملک سے واپسی کی ڈیوٹی پر تعینات چھ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے میں مزید دن لگ سکتے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پیٹاگون نے پیر کو کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ کے ذریعے 16 ہزار افراد افغانستان سے نکالے گئے۔جنرل ہینک ٹیلر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی وقت پیر صبح تین بجے تک کے 24 گھنٹوں میں 61 ملٹری، کمرشل اور چارٹر پروازیں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند افراد کو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لے کر اڑیں اور مختلف ممالک پہنچیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان میں 11 ہزار کو امریکی فوج کے ایئرلفٹ آپریشنز سے نکالا گیا۔

ان کے بقول 14 اگست میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے افغانستان سے 37 ہزار تک افراد امریکی پروازوں پر ملک چھوڑ چکے ہیں، ان میں ’کئی ہزار‘ امریکی شہری اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری شامل ہیں جنہوں نے طالبان کے خطرے کے باعث مخصوص ویزے اپلائی کیے ہوئے تھے۔پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کے مطابق افغانستان میں توجہ اسی بات پر ہے کہ صدر بائیڈن کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک انخلا پورا کر لیا جائے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورت حال پر ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں کا ورچوئل اجلاس آج ہو گا جس میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا ان پر پابندیاں عائد کرنے پر متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ رہنما ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عہد بھی کریں گے۔روئٹرز کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ جی سیون ممالک امریکہ، برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، کینیڈا اور جاپان کے رہنما متفقہ طور پر طالبان کو تسلیم کریں یا پابندیوں میں تجدید کریں تاکہ طالبان کو ان کے خواتین کے حقوق اور بین الاقوامی تعلقات قائم رکھنے کے وعدوں پر قائم رکھا جا سکے۔

برطانیہ کی امریکی میں سفیر کیرن پیرس نے کہا کہ وزیر اعظم بورس جانسن جی سیون اجلاس میں متفقہ حکمت عملی پر زور دیں گےاجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش اور نیٹو سیکریٹری جنرل جین سٹولٹنبرگ بھی شامل ہوں گے۔ پیرس نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم نئی افغان قیادت سے متفقہ طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی قائم کرنے کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم (طالبان کے) اعمال کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے، الفاظ پر نہیں۔‘

ذرائع کا کہنا ہے جی سیون اجلاس میں صدر بائیڈن کی انخلا کی 31 اگست کی تاریخ میں ممکنہ توسیع پر بھی غور کریں گے مغربی ممالک کو اپنے شہری اور نیٹو فورسز اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کو باحفاظت ملک سے نکالنے کا مزید وقت مل جائے۔

Back to top button