کیا پاک بھارت بیک چینل مذاکرات ناکام ہوگئے؟

بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ انتہاپسند مودی حکومت نے افغانستان میں ہزیمت اٹھانے اور اترپردیش کا انتخابی معرکہ جیتنے کے لئے مقبوضہ جموں و کمشیر کی سب سے موثر سیاسی تنظیم حریت کانفرنس پر دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک انڈیا بیک چینل مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔
اگرچہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر حریت کانفرنس پر پابندی لگانے کا کوئی اعلان نہیں کیا لیکن سرینگر میں حریت کے مرکزی رہنما سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ پر واقع پرانے دفتر سے حریت کا بورڈ ہٹا دیا گیا ہے۔ لہذا پاکستان بھارت معاملات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حریت پر ممکنہ پابندی کی سوچ سے واضح ہوتا ہے کہ پاک انڈیا بیک چینل مذکرات ناکام ہوچکے ہیں جس کے بعد مودی حکومت پاکستان کو سخت پیغام دینے کی ایک ناکام کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسا کرنے سے سیاسی عمل کے راستے اور بھی محدود ہو جائیں گے۔
حریت کانفرنس پر الزامات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی اداروں نے پاکستان کے میڈیکل اداروں میں کشمیری طلبا کے لیے سیٹیں مختص کیے جانے کے معاملے کی تفتیش کے بعد کہا کہ حریت کی بعض جماعتیں طلبہ سے پیسے جمع کر کے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی مالی اعانت کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ چنانچہ حریت کے بعض رہنماؤں پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی اعانت کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب حریت کے رہنما میر واعظ نے سر ینگر میں کہا کہ وہ میڈیا میں پھیلائے جا رہے اس پراپیگنڈے کو پورے طرح مسترد کرتے ہیں کہ حریت کی قیادت پاکستان کے اداروں میں کشمیری طلبہ کے لیے مختص میڈیکل اور انجینیئرنگ کی سیٹوں کو پیسے لے کر امیدواروں کو فروخت کر رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ جبر، قانونی ہتھکنڈوں اور پراپیگنڈے سے جموں و کشمیر کے تنازعے کے پر امن حل کی کشمیری عوام کی تمناؤں کو بدلا نہیں جا سکتا۔
واضح رہے کہ حریت کے دونوں دھڑوں کے سینکڑوں رہنما اور ارکان 5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو ہٹائے جانے کے بعد گرفتار کر لیے گئے تھے۔ ان میں سے بیشتر اب بھی جیل میں ہیں۔ حریت کی تمام سرگرمیاں عملی طور پر بند ہیں۔حریت رہنماوں کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے یہاں غیر سرکاری طور پر پابندی ہی لگی ہوئی ہے۔ انتہا پسند مودی حکومت یہاں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہونے دے رہی۔ حریت پر پابندی لگانے کا بھارتی ارادہ اترپردیش کے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ وہ اس سے آنے والے دنوں کا ماحول بنا رہے ہیں۔ لیکن ایسا فیصلہ ماحول کو اور بھی پیچیدہ کر دے گا۔ اس سے مزید گرفتاریاں ہوں گی اور عسکریت کے لیے ماحول بنے گا۔
