جے ایس بینک میں75کروڑ کا فراڈ

جے ایس بینک کی دو برانچز میں 75 کروڑ کے فراڈ میں ملوث مزید چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ایس پی انوسٹی گیشن الطاف حسین نے بتایا کہ مذکورہ فراڈ کیس میں گرفتار افراد کی تعداد14 ہوگئی ہے جن میں 6 بینک ملازم شامل ہیں ہیں۔ایس پی الطاف حسین کے مطابق دیگر ملزموں کو سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار سہولت کار سادہ لوح افراد کو بینک سے قرض دلانے کا جھانسہ دینے میں ملوث ہیں۔ملزم بینک سے قرض منظور کر نے کے لئے سادہ لوح افراد کے شناختی کارڈ استعمال کرتے تھے۔

ملزموں نےدوران تفتیش طریقہ واردات بھی بتادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قرض منظوری کے مرحلے کے دوران دو بیگز بینک لائے جاتے تھے۔ ایک بیگ میں اصلی اور دوسرے میں نقلی زیورات موجود ہوتے تھے۔پولیس کے مطابق بینک میں موجود جیولر کو اصلی زیورات کا تھیلا دکھا کر این او سی لی جاتی تھی۔ جیولرز سے کلین چٹ ملنے پر گولڈ فنانس ایگزیگٹیو عدیل لطیف اصل کے بجائے نقلی زیورات بینک میں رکھ دیتا تھا۔

تفتیشی حکام نے انجانے میں جعلسازی کا شکار ہوجانے والے افراد کو پولیس کی روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔جے ایس بینک کے دو برانچز میں 75 کروڑ غبن کا معاملہ دو اگست کو سامنے آیا تھا۔ جے ایس بینک گلستان جوہر اور گلشن اقبال برانچ میں غبن اور مبینہ خردبرد پر دو مقدمات درج ہوئے ہیں۔مقدمات کراچی کے شاہراہ فیصل تھانے اور عزیز بھٹی تھانے میں درج کرائے گئے۔ مبینہ طور پر نقلی زیورات کےعوض 28 کسٹمرز کو گلستان جوہر برانچ سے 55 کروڑ روپے کا قرض جاری کیا گیا۔

تھانہ عزیز بھٹی میں اسی نوعیت کی جعل سازی پر دوسرا مقدمہ درج کرایا گیا جس میں 11 کسٹمرز پر سونے کے زیورات کے بدلے 20 کروڑ 40 لاکھ روپے قرضہ لینے کا الزام لگایا گیا۔بینک میں سونا رکھ کر قرضہ دینے کی پالیسی کا ملزموں نے فائدہ اٹھایا، ملزم قرضہ لینے کے لئے اصل سونا دکھاتے اور بعد میں نقلی زیورات سے بدل دیتے تھے۔ ملزم جون 2021 سے جعلسازی میں ملوث ہیں۔

Back to top button