حامد میر کو بلانے پر محمد مالک کا شو بند کر دیا گیا

چھ ماہ پہلے جیو ٹی وی سے آف ائیر کر دیے جانے والے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر تب دوبارہ خبروں میں آ گئے جب ہم ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں انہیں بطور مہمان بٹھائے جانے پر محمد مالک کا چلتا پروگرام ہی بند کر دیا گیا اور پروگرام کی بجائے اچانک خبریں چلنا شروع ہوگئیں۔
سینئر صحافی اسد علی طور نے ہم نیوز چینل پر ہونے والی اس واردات کا قصہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 22 دسمبر کی رات سینئیر صحافی حامد میر محمد مالک کے تجزیاتی پروگرام میں بطور مہمان شریک تھے۔ جیو ٹی وی سے آف ائیر کیے جانے کے تقریبا چھ ماہ بعد انہیں کسی نیوز چینل پر دیکھا گیا تھا لیکن مالک کا شو ابھی 15 منٹ ہی چلا تھا کہ اسے اچانک آف ائیر کرکے خبریں چلانا شروع کر دی گئیں لیکن ہم ٹی وی کی مینجمنٹ ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ایسا پیمرا کے کہنے پر کیا گیا یا طاقتور حلقوں کی جانب سے کوئی فون آیا تھا۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ محمد مالک کا چلتا پروگرام بند کرنے کی وجہ حامد میر کو اس شو میں بٹھانا تھا۔ اسد علی طور نے اس واقعے پر طنز کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں پوچھا کہ کیا پاکستان میں واقعی کوئی سینسرشپ نہیں ہے اور اسٹیبشلمنٹ نے حامد میر کو آف ائیر نہیں کروایا ہے۔
واضح رہے کہ مئی 2021ء میں سینئر صحافی اسد طور کے گھر میں گھس کر ان پر تشدد کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے ایک مظاہرے سے خطاب کے دوران حامد میر نے ایجنسیوں کی جانب سے میڈیا پر لگی پابندیوں کی شدید مذمت کی تھی تھی۔ حامد میر کی تقریر کے کلپس کو سوشل میڈیا پر بہت بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جیو کی انتظامیہ نے حامد میر کو پروگرام کیپٹل ٹاک کی میزبانی سے روک دیا تھا۔
حامد میر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پھر میڈیا والے بھی حملوں کے ذمہ داران کے اصل چہرے بے نقاب کر دیں گے۔ حالانکہ حامد میر نے یہ تقریر جیو ٹی وی پر نہیں بلکہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر کی تھی لیکن پھر بھی جیو ٹی وی کی انتظامیہ نے ان کے خلاف یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں آف ائیر کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی تقریر میں حامد میر نے نہ تو کسی فرد کا نام لیا تھا اور نہ ہی کسی ادارے کا لیکن چونکہ چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے اس لیے پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی نے جیو نیوز کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر انہیں ان کے پروگرام سے علیحدہ کروا دیا۔ حامد میر کے خلاف اس ایکشن کے بعد انہیں ملک بھر کے صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور حمایت ملی اور جیو نیوز کی انتظامیہ کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کی گئی۔ تاہم حامد میر کو آف ائیر کیے جانے کے اقدام نے ان کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو درست ثابت کردیا کہ پاکستانی میڈیا اسٹیبلشمنٹ کے شدید تر دباؤ میں کام کر رہا ہے۔
