حساس ایشوز پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی مارے کیوں جاتے ہیں؟

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے مرکزی ملزم شیخ احمد عمر سعید کی رہائی کے فیصلے نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ پاکستان میں سچ کی کھوج لگاتے ہوئے کسی بھی صحافی کی جان محفوظ نہیں، وہ چاہے پاکستانی ہو یا کوئی امریکی۔ اگر وہ کسی حساس موضوع پر تحقیق کرے گا تو جان سے جائے گا۔
تحقیقاتی صحافی کے طور پر اپنی شناخت رکھنے والے سینئر صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں ہم سوچا کرتے تھے کہ پاکستان میں شہید ہونے والے کسی مقامی صحافی کے خاندان کو انصاف ملے نہ ملے، امریکی صحافی ڈینیل پرل کے خاندان کو انصاف ضرور ملے گا کیونکہ اُس کیس کی پیروی کوئی اور نہیں امریکی حکومت کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قتل کے پیچھے چھپے کئی سچ آج اٹھارہ سال بعد بھی منظر عام پر نہیں لائے جا سکے، جس سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ ہمارے ہاں ریڈ لائن کراس کرنے والے ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کے صحافیوں کی جانیں محفوظ نہیں۔ اعزاز سید کہتے ہیں کہ وقت نے ہمیں غلط ثابت کیا، امریکا بہادر اپنے شہریوں کی بالعموم اور اپنے صحافیوں کی بالخصوص قدر کرتا ہے اِسی لیے ڈینیل پرل کیس میں انصاف کی توقع غیرفطری نہ تھی۔ ہمارا یہ گمان اِس ٹھوس حقیقت پر بھی مبنی تھا کہ ڈینیئل کے قتل کے وقت پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی تھا اور ملکِ خداداد پر ڈالروں کی بارش بھی ہورہی تھی جبکہ اُس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے ساتھ امریکا پیار کی پینگیں بھی بڑھا رہا تھا۔ لیک چکر دینے والوں نے افغانستان کی سرزمین ہی نہیں پاکستان کے کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی امریکا بہادر کو ایسا دھوبی پٹکا مارا کہ سب حیران ہیں۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ڈینیئل پرل اغوا اور قتل کیس کے 4 ملزمان کی حراست کو کالعدم قرار دینے اور انہیں فوری رہا کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کردیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اسے 24 دسمبر کے سندھ ہائی کورٹ کے ’ڈینیئل پرل کے قتل کے ذمہ دار متعدد دہشت گردوں‘ کو رہا کرنے کے فیصلے پر ’شدید تشویش‘ ہے۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ’ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس وقت تک ملزمان کو رہا نہیں کیا گیا‘۔
سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ڈینئل پرل کے قتل کے مرکزی ملزم عمر شیخ اور دیگر کی رہائی کے فیصلے پر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ محکمہ اس کیس میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے گا اور ڈینیئل پرل کی بطور صحافی میراث کا احترام کرتے ہوئے ’اس انتہائی مشکل عمل کے دوران‘ ان کے اہل خانہ کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل اغوا اور قتل کیس میں بریت کے باوجود ملزمان کو حراست میں رکھنے کے سندھ حکومت کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے مذکورہ کیس میں 8 ماہ قبل کالعدم قرار دی گئی ٹرائل کورٹ کی سزاؤں کے باجود ملزمان کو حراست میں رکھے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت میں یہ فیصلہ دیا تھا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا اور عدم ثبوت کی بنا پر ملزمان کی رہائی کا فیصلہ جاری کیا گیا۔
اعزاز سید کا کہنا یے کہ ڈینیل پرل کیس میں انکی دلچسپی کی دو بنیادی وجوہات رہی ہیں، اول یہ کہ مذکورہ امریکی صحافی سے اسلام آباد میں اُس کے مختصر قیام کے دوران انکی دو یادگار ملاقاتیں ہوئی تھیں، دوسری وجہ یہ تھی کہ اُن دنوں پوری ریاستی مشینری ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں بظاہر سرگرم نظر آرہی تھی۔ اعزاز۔کہتے ہیں کہ اُس کیس کی تحقیقات کا پاکستان کے قتل ہونے والے صحافیوں کی تحقیقات سے موازنہ بڑا دلچسپ موضوع تھا اور شاید آج بھی ہے۔
اعزاز کہتے ہیں کہ سال 2001 میں ڈینیل پرل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کا رپورٹر تھا، جس کے ذمے پورے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان و افغانستان میں جنم لینے والی خبروں کو رپورٹ کرنا تھا، پرل کا دفتر بھارت میں تھا جہاں سے وہ پورے خطے میں گھوما کرتا تھا۔ امریکا میں نائن الیون کے واقعات ہوئے تو اگلے ہی روز پرل کراچی آن دھمکا، اُنہی دنوں فرانس میں رچرڈ ریڈ نامی ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا جو اپنے جوتے میں بم چھپا کر امریکا جانے والی ایک پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنا چاہتا تھا۔ اُس سے تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا کہ وہ ایک پاکستانی مذہبی شخصیت سید مبارک گیلانی کا ماننے والا ہے، پرل کو اِس بات کی اطلاع ملی تو وہ مبارک گیلانی کی تلاش میں نکل پڑا اور اُسے ڈھونڈتا ہوا 11جنوری 2002 کو راولپنڈی کے اکبر انٹرنیشنل ہوٹل میں بشیر نامی ایک شخص سے ملا، یہ بشیر دراصل احمد عمر سعید شیخ تھا، جس نے اُسے مبارک گیلانی سے ملاقات کرانے کا وعدہ کیا۔
موہنی روڈ لاہور کے شیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے برطانیہ سے تعلیم یافتہ احمد عمر سعید شیخ کا ایک جہادی پس منظر تھا، وہ 1990 کی دہائی میں حرکت المجاہدین کے پلیٹ فارم سے مولانا مسعود اظہر کے ایماء پر جموں کشمیر میں کچھ غیر ملکیوں کے اغوا میں گرفتار ہوکر جیل پہنچا تھا۔ لیکن دسمبر 1999میں ایک بھارتی مسافر طیارے کے اغوا کے بعد اُس کی مسعود اظہر کے ساتھ افغانستان میں رہائی عمل میں آئی تھی۔ پرل کو البتہ عمر شیخ عرف ’’بشیر‘‘ کا جہادی پس منظر معلوم نہ تھا اسلیے اسکے جال میں پھنس گیا۔
پرل اور عمر کی اگلی ملاقات کراچی میں 23جنوری 2002 کو ہوئی جس کے بعد ڈینیل پرل کو کسی نے نہ دیکھا، پھر جنوری کے آخری ہفتے میں پرل کی رہائی کے عوض افغان قیدیوں کی رہائی اور امریکا سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی جیسے مطالبات ای میل کے ذریعے امریکی حکام کو موصّول ہوئے، بعد ازاں 21 فروری 2002 کو ایک وڈیو منظر عام پر آئی جس میں پرل کو نقاب پوش شخص کے ہاتھوں بہیمانہ انداز میں قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔
پولیس کے مطابق امریکی حکام کو ملنے والے مطالبات کی ای میلز کی تحقیقات کے دوران کراچی کے جس گھر سے ای میل کے لیے انٹرنیٹ استعمال کیا گیا، اس گھر کے دو لڑکوں کو حراست میں لیا گیا، جن سے پوچھ گچھ کے دوران احمد عمر سعید شیخ کا نام سامنے آیا۔ عمر لاہور کا رہنے والا تھا اس لیے اس کے گھر والوں کو حکومت نے روایتی انداز میں ہراساں کیا تو اس نے 6 فروری 2002کو اِس وقت پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور موجودہ وفاقی وزیر بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے دفتر میں خود کو ایجنسیوں کے حوالے کیا۔
ڈینیل پرل قتل کیس کی تحقیقات میں بظاہر جان بوجھ کر کافی سقم چھوڑے گئے مگر اس کے باوجود اس وقت تو مقامی عدالت نے ملزمان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔
مگر کیس سندھ ہائیکورٹ میں چلا تو عمر کے وکیل محمود شیخ نے کیس پولیس کے اپنے چالان کی روشنی میں پرل کیس میں تحقیقات کی دھجیاں اڑا دیں۔ سندھ پولیس نے احمد عمر سعید شیخ کے خلاف کراچی سے گرفتار جن دو ملزمان کے اعترافی بیان پر کیس کی عمارت کھڑی کی تھی، محمود شیخ نے انہی بیانات کی روشنی میں ثابت کیا کہ وہ اعترافی بیانات دباؤ اورتشدد کے ذریعے لیے گئے تھے۔ پولیس عدالت میں پرل کا قتل تک ثابت نہ کر سکی کیوں کہ عدالت میں پوسٹ مارٹم رپورٹ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور آلہ قتل کچھ پیش نہ کیا گیا، یوں سارے کیس کی عمارت دھڑام سے گرگئی۔
اب دسمبر 2020 میں سندھ ہائیکورٹ نے عمر سعید شیخ کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی کیس سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی اپیل زیر سماعت ہے، پرل کے قتل کو اٹھارہ سال بیت گئے مگر پاکستانی سرزمین پر تمام تر امریکی اثر و رسوخ کے باوجود ڈینیل پرل کو انصاف ملا اور نہ ہی اُس کے قاتل پکڑے گئے۔
پرل کے قتل کے بارے میں امریکا کی قید میں نائن الیون واقعات کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد نے بھی اعترافی بیان دے رکھا ہے کہ یہ قتل انہوں نے اپنے ہاتھ سے کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قتل کے پیچھے چھپے کئی سچ آج اٹھارہ سال بعد بھی منظر عام پر نہیں لائے جا سکت، تاہم ایک بات تو ضرورثابت ہوئی ہے کہ ہمارے ہاں سچ کی کھوج لگاتے کسی بھی صحافی کی جان محفوظ نہیں، وی چاہے پاکستانی ہو یا امریکی۔
