حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت، ‘مناسب نہیں ملزم ٹرائل کی تکمیل تک جیل میں رہے

سپریم کورٹ میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیےکہ ٹرائل کے مکمل ہونے تک ملزم کو جیل میں رکھنا مناسب نہیں۔
جسٹس مشیر عمر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ‘سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق احتساب عدالت نمبر2 کے مقدمات کی تفصیل جمع کرا دی ہے’۔جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ ‘لاہور کی احتساب عدالت نمبر2 میں 46 مقدمات زیر التوا ہیں اور حمزہ شہباز کا کیس 44ویں نمبر پر ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ نیب مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دے چکی، نیب ہمیں بتائے کہ حمزہ شہباز کیس کا ٹرائل کب مکمل ہوگا’۔عدالت میں حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ‘حمزہ شہباز ایک سال 7 ماہ سے جیل میں ہیں’۔جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ‘کیس میں جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ شرمناک ہیں، ٹرائل کی سطح پر کوئی آبزرویشن نہیں دینا چاہتے’۔جسٹس یحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ‘حمزہ شہباز کیس چلنے پر مطمئن ہیں تو کیا مسئلہ ہے؟’۔جسٹس یحیٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘ٹرائل مکمل ہونے تک ملزم کو جیل میں رکھنا بھی مناسب نہیں، یہ بھی اچھا نہیں کہ پرانے مقدمات چھوڑ کر نئے کیسز پہلے چلائے جائیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جو ملزم پیش نہ ہو نیب اسکی ضمانت منسوخی کے لیے رجوع کرے’۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ‘ملک بھر میں 30 نئی احتساب عدالتیں بن رہی ہیں، نئی عدالتوں کے قیام سے مقدمات کا بوجھ تقسیم ہوگا’۔انہوں نے بتایا کہ ایک دن میں پانچ سے دس گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوتے ہیں۔حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ‘کئی مقدمات تو 2003 سے چل رہے، عدالت حمزہ کو ضمانت دے تاکہ مقدمہ چلانے میں سہولت مل سکے’۔جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ‘احتساب عدالت کی رپورٹ آنے دیں معلوم ہو سکے ٹرائل کب تک مکمل ہوگا’۔عد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز کے ٹرائل کے مکمل ہونے کے بارے میں احتساب عدالت سے جواب طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے احتساب عدالت نمبر 2 میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی۔
