حکومتی ترجمان دن کو رات اور غلط کو صحیح کیسے ثابت کرتے ہیں؟

کارکردگی کی بجائے پراپیگنڈا کی بنیاد پر اپنی حکومت کو کامیاب اور اپوزیشن کو ملعون و مطعون کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری و غیر سرکاری ترجمانوں کا گروپ بنا رکھا یے جسکو وہ ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے چلاتے ہیں۔ اس گروپ کے ذریعے عمران خان اپنے میڈیا مینیجرز یا ترجمانوں کو نہ صرف اجتماعی اور انفرادی ٹاسک سونپے ہیں بلکہ ان کی جزا و سزا کا تعین بھی ہوتا ہے۔
حکمران تحریک انصاف کے میڈیا مینیجرز کو ایک انوکھا چیلنج یہ درپیش ہے کہ وہ وزیر اعظم سے اور وزیراعظم ان سے محض ایک واٹس ایپ پیغام کے ذریعے کسی بھی وقت رابطہ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا یے کہ عمران خان نے پارٹی کے اندر موجود کئی قابل بھروسہ افراد کو بھی غیر رسمی طور پر حکومتی بیانیہ پھیلانے کی ذمے داری سونپی رکھی ہے۔ یعنی عمران نے سرکاری کے علاوہ اپنے غیر سرکاری ترجمانوں کا ایک نیم سرکاری گروپ بھی تشکیل دے رکھا ہے جن کے ساتھ وہ روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ بریفنگ سیشن کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر کو حکومت یا پارٹی کا سرکاری ترجمان بنانے کا بھی کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔
تحریک انصاف کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ذاتی طور پر اپنے اس واٹس ایپ کے ذریعے مختلف ترجمانوں کو حکومتی کارکردگی ہائی لائٹ کرنے اور اپوزیشن کو مطعون و ملعون کرنے کے لیے تجاویز اور آئیڈیاز کی منظوری دیتے ہیں۔
وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح ان کی نگرانی میں بیانیہ سازی کا نیٹ ورک براہ راست کام کرتا ہے۔ وزیراعظم مستقل طور پر روزانہ اپنے ترجمانوں کی میٹنگ کرتے ہیں اور اجلاس سے باضابطہ طور پر جاری کردہ بیانات عام طور پر ٹی وی اور اخبارات کی شہ سرخی بنتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو ناکام ثابت کرنے کی منصوبہ بندی بھی کئی دن پہلے سے ہی کر لی گئی تھی اور اس حوالے سے میڈیا کو حکومتی بیانیے کے حق میں مینیج کرنے کے لیے مختلف مینیجرز کو مختلف ٹی وی چینلز ز ہینڈل کرنے کی ذمہ داری دی گئی جسے انہوں نے کامیابی سے پورا کیا اور اپوزیشن کا جلسہ ایک فلاپ ثابت کردیا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔
13 دسمبر کے اپوزیشن کے جلسے کے ایک دن بعد کپتان کے واٹس اپ گروپ میں شامل میڈیا مینیجرز نے وزیراعظم سے اس بات پر داد وصول کی کہ انہوں نے کس طرح میڈیا میں اپوزیشن جلسے کو ناکام ثابت کیا۔ اس معاملے پر تحریک انصاف حکومت کے پہلے وزیر اطلاعات اور موجودہ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پارٹی کے وہ رہنما اور کابینہ کے اراکین جو ٹی وی شوز میں باقاعدگی سے مہمان ہوتے ہیں وہ حکومت کے ترجمانوں کے اس غیر رسمی گروپ کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم انہیں وزیر اعظم آفس یا اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں اجلاس کے لیے طلب کرتے ہیں جہاں یہ ملاقات کم از کم 90 منٹ تک جاری رہتی ہے۔ فواد چودھری کے مطابق کچھ ایسے لوگ جو اسلام آباد سے باہر رہتے ہیں، وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اس ملاقات میں شرکت کرتے ہیں۔
جن لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مشاورتی فورم کے باقاعدہ اراکین ہیں ان میں وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر صنعت حماد اظہر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار، سینیٹر فیصل جاوید، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، ندیم افضل گوندل، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات رؤف حسن، معاون خصوصی شہباز گل، ولید اقبال، کنول شوزاب، ملائیکا بخاری اور صداقت عباسی شامل ہیں۔
پاکستانی میڈیا میں چلنے والے موضوعات پر تازہ ترین بیانیے سے لیس ہو جانے کے بعد ان ترجمانوں کو میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھیجا جاتا ہے جہاں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس بیان کو پورے یقین کے ساتھ آگے بڑھا دیں، ذرائع کا کہنا یے کہ ان ترجمانوں کی کارکردگی کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ اگر کسی معاملے کی تشہیر یا دفاع کی ضرورت پڑتی ہے تو متعلقہ وزیر یا مشیر کو اجلاس میں مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان ترجمانوں کو بریفنگ دیں اور اس میں سرخی والے معاملے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ایک عہدیدار نے اس میکنزم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مثال کے طور پر بیرسٹر شہزاد اکبر کو اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب اور بدعنوانی کے معاملات کے حوالے سے تازہ اپ ڈیٹ کے لیے طلب کیا جاتا ہے اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو معیشت کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر کے مطابق یہ ملاقاتیں ان ترجمانوں کو ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی پالیسی کو اوپر سے درست کر سکیں اور پالیسی کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے ہوئے سوالات پوچھنے اور تجاویز دینے کا موقع حاصل کر سکیں۔
وزیر اعظم کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ معمول کی مشق کے برعکس جب وزیر اعظم سے ملاقات کے منٹس تیار ہوجاتے ہیں اور ایک باضابطہ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے تو ترجمانوں کی ملاقاتیں غیر رسمی رہ جاتی ہیں اور اس کے بعد کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی جاتی، انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عہدیداروں کو بھی ان اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی کارکردگی کی بجائے پراپیگنڈا کے زور پر پرفارمنس کا ڈھنڈھورا پیٹنے کی روش نے تحریک انصاف کے اندر کئی مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ پارٹی ترجمانوں کو ہر حال میں کپتان کے ہر طرح کے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے بصورتِ دیگر واٹس ایپ گروپ میں ان کی سب کے سامنے ٹھیک ٹھاک کلاس لگ جاتی ہے۔
