حکومتی درخواست مسترد، موٹر وے پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت برقرار

سپریم کورٹ پاکستان نے موٹروے پر موٹرسائیکل چلانے کی اجازت کے خلاف حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئےمزید کارروائی کےلیے فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی تین رکنی بنچ نے حکومت کی درخواست پرسماعت کی جس میں استدعا کی گئی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ جسٹس میاں عالم کی سربراہی میں بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کیے تاکہ وہ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرسکیں جس کے بعد اس کیس کی روزانہ بنیادوں پر سماعت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے موٹروے پر موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دی تھی اور اس فیصلے کو اب سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے حکمِ امتناع جاری کرنے کی حکومتی استدعا مسترد کردی ہے۔
بینچ کے رکن جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا قانون میں موٹروے پر موٹرسائیکل چلانے پر پابندی ہے؟
جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس کے مطابق موٹروے پر موٹرسائیکل نہیں چل سکتی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون کے مطابق پابندی کا نوٹیفکیشن وجوہات کے ساتھ جاری کرنا لازم ہے، دنیا بھر کی موٹر ویز پر موٹرسائیکلز چلتی ہیں، اگر حکومت نے پابندی عائد کی ہے تو نوٹیفکیشن دکھائیں۔
حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پابندی کےلیے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تاہم موٹروے کے انٹری پوائنٹس پر پابندی کے سائن بورڈ لگائے گئے ہیں۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ موٹرسائیکل پر سیفٹی اور سکیورٹی کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی۔ چین، انڈونیشیا اور فلپائن میں موٹرسائیکلز موٹروے پر لانے پر پابندی ہے،
یہ درخواست 10 دسمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے ایک فیصلے کے خلاف ہے جس میں موٹروے پر موٹر سائیکلز چلانے کےلیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کو بہتر بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد-لاہور موٹروے(ایم2) کی تعمیر کے بعد نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 کے تحت موٹروے پولیس کو قومی شاہراہوں پر ٹریفک کو ریگولیٹ اور کنٹرول کرنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔
ایم-2 موٹروے پر موٹرسائیکل چلانے پر روزِ اول سے پابندی عائد ہے۔ مذکورہ پالیسی ہائی ویز اور موٹروے کوڈ رول 202 میں شامل ہے، روڈ ٹریفک کے ویانا کنوینشن کے مطابق سڑک کے اصولوں سے متعلق حکومتی دستاویز 1968 میں تیار کی گئی تھی۔اس پابندی سے صرف موٹروے پولیس کو پٹرولنگ کےلیے 500 سی سی کی موٹر سائیکل استعمال کرنے کا استثنیٰ حاصل تھا لیکن اسے بھی حفاظت کی وجہ سے جاری نہیں رکھا گیا اور بائیکس کو کاروں سے پیٹرول کاروں میں تبدیل کردیا گیا۔
خیال رہے کہ 19 دسمبر 2009 کو وزیراعظم سیکریٹریٹ نے لاہور بائیکرز کلب پریزیڈنٹ برہان محمد خان کی ایک درخواست آگے بڑھائی تھی جس میں موٹروے پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت مانگی گئی تھی تاہم نیشنل ہائی موٹروے پولیس(این ایچ ایم پی) نے 15 فروری 2010 کو یہ درخوات مسترد کردی تھی۔
بعدازاں 6 اپریل 2010 میں موٹروے پولیس نے 3 سال کےلیے 500 سی سی اور اسے زائد کی موٹرسائیکل کو موٹروے پر چلانے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) ضروری سہولیات مہیا کرے گی مثلاً سڑک کی علامتوں اور نشانات کے ساتھ موٹر سائیکلوں کے علیحدہ ٹریک وغیرہ۔
تاہم بائیکس کو صرف قومی دنوں پر موٹروے پر آنے کی اجازت ہوگی جس کےلیے محدود تعداد میں مخصوص مدت کے لیے کارڈ جاری کیے جائیں گے۔بعدازاں سیفٹی وجوہات، عوام کی شکایات، اوور اسپیڈنگ، زگ زیگ چلانے، اچانک موڑ کاٹنے اور لین کی خلاف ورزی پر مشروط اجازت بھی واپس لے لی گئی تھی۔
مذکورہ اجازت کی واپسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ بائیکرز کے پاس لائسنس ہوتا ہے اور اس کی موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہوتی ہے اس لیے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔
ہائی کورٹ کے دیے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور بائیکرز کلب کی درخواست پر ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کے ساتھ آزمائشی بنیادوں پر مشروط اجازت دی گئی تھی لیکن مشاہدے میں یہ بات آئی کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کے علاوہ موٹرسائیکل سوار موٹرویز پر چلنے ولی دیگر طرح کے ٹریفک کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔
