حکومت مخالف تحریک میں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے مایوس کیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں ہی ملک کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں. اپوزیشن کی زیادہ تر بڑی جماعتوں نے حکومت مخالف آزادی مارچ میں مایوس کیا.
چارسدہ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کےساتھ رابطے میں نہیں، حکومت پہلے ناجائزتھی،، پھر نااہل ثابت ہوگئی، اب جاہل ہے، عوام 13 ماہ سےآرٹیکل 6 کی زد میں ہیں، لوگ بچے بیچ رہےہیں،خودکشیاں کررہے ہیں۔ دھاندلی سے بننے والی حکومت کوقبول نہیں کرتے. ان کا مزید کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں آزادی مارچ کے لیے پُرجوش نہیں تھیں اور اس میں ان کی شرکت علامتی تھی، اس کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ کو منظور کرانے میں بھی حکومت کی مدد کر کے اسے استحکام بخشا. انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن دو کشتیوں میں سوار ہے، ایک طرف اپوزیشن آزادی مارچ میں علامتی کردار ادا کرتی ہے جبکہ دوسری جانب وہ آرمی ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں حکومت کی بھرپور حمایت کرتی ہے’۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ‘بڑی سیاسی جماعتیں ہی اس ملک کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں’۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ‘سلیکٹڈ حکومت’ کو امریکا اور یورپی ممالک سمیت طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے تاکہ حکومت کو استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے خبردار کیا کہ ‘جے یو آئی (ف) حکومت کے خلاف اپنی جدو جہد جاری رکھے گی جبکہ آئین کے آرٹیکل 6 لگانے کی دھمکیوں سے انہیں ڈرایا نہیں جاسکتا’۔
مولانا فضل الرحمٰن نے الزام لگایا کہ ‘پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل احمدیوں سے معاہدہ کیا تھا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں ملک میں ان کی پرانی حیثیت واپس دلائی جائے گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جے یو آئی (ف) نے ان کی اس سازش کو ناکام بنایا اور حکومت کو توہین مذہب قانون میں تبدیلی کرنے سے روکا’ ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے اپنی نااہلی سے خود کو بے نقاب کردیا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘احتجاج تمام سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے اور جے یو آئی (ف) اس ناجائز حکومت کے جانے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی’۔ ان کے مطابق ‘سلیکٹڈ حکومت’ ہر 3 ماہ میں منی بجٹ کا اعلان کرتی ہے جس کی وجہ سے عوام مزید پس رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button