حکومت نے تحریک لبیک کے سامنے دوبارہ گھٹنے ٹیک دئیے


بظاہر جی ٹی روڈ کے راستے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے پرتشدد مظاہرین کے سامنے ایک مرتبہ پھر سے مکمل گھٹنے ٹیکتے ہوئے وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساڑھے 3 سو سے زائد کارکنان کو رہا کردیا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن پر لاہور میں تین پولیس والوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ حکومت نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ دیگر کارکنان کے خلاف درج شدہ کیسز 27 اکتوبر تک واپس لے لیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت نے تحریک لبیک کے مظاہرین کے خلاف گھٹنے ٹیکے ہوں۔ ماضی میں جب بھی تحریک لبیک نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا ہے اس کے ہاتھوں پولیس والے قتل ہوئے ہیں اور جواب میں حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک والوں نے تین روز پہلے لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا منصوبہ بنایا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ وہ فیض آباد چوک میں پہنچ کر دھرنا دیں گے۔ لونگ مارچ کے آغاز میں ہی میں مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران 3 پولیس والے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ تحریک لبیک کا دعویٰ ہے کہ ان کے تین لوگ بھی پولیس کے ہاتھوں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس دوران حکومت پنجاب نے جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے لانگ مارچ کو روکنے کی منصوبہ بندی کی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گوجرانوالہ میں مریدکے کے قریب پولیس نے سڑک پر جگی جگی خنقیں کھود دی ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا ہے کہ پی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور وہ اب اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے تاہم انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی والوں کا اصرار ہے کہ وہ مزید دو روز مریدکے میں دھرنا دے کر بیٹھیں گے جس کی ان کو اجازت دے دی گئی ہے تاہم اس دوران لاہور کی جانب گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے۔
شیخ رشید احمد کے مطابق حکومت نے تحریک لبیک کے جو مطالبات منظور کیے ہیں انکے مطابق ان کے ساڑھے تین سو سے زیادہ گرفتار کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے ٹی ایل پی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ پر نظرِ ثانی کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی اور کہا کہ ان کے زیر حراست سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ’ہم ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے فیصلے کے مطابق مریدکے کی سڑک دونوں اطراف سے کھولے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ وقتی طور پر روکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’شاید لوگ کہیں گے ریاست جھک گئی ہے لیکن ریاست کا کام طاقت کا استعمال کرنا نہیں ہے بلکہ میرے نقطہ نظر کے مطابق مفاہمت کی راہ نکالنا ہے’۔
اسی دوران ٹی ایل پی شوریٰ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ مریدکے میں دو دن تک قیام کریں اور انتظار کریں، کیونکہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور شوریٰ کے دیگر اراکین سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا اور فورتھ شیڈول پر نظرِ ثانی کرے گی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ نومبر 2020 میں تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے گی اور انہیں اس حوالے سے صرف وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب سے واپسی کا انتظار ہے۔
ٹی ایل پی شوریٰ رکن کے مطابق رہائی کے بعد ان کی قیادت اور کارکن مریدکے میں مارچ کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور ممکنہ طور پر لانگ مارچ کے خاتمے کے اپنے اگلے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ایل پی کے زیر حراست سربراہ سعد رضوی سے 8 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے مذاکرات کا حصہ رہے اور ان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے دوران بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا رکن بننے کو تیار نہیں تھے لیکن انہوں نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کے اصرار پر مذاکرات میں حصہ لیا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے حیران کن طور پر یہ بھی کہا کہ انکی حکومت نے ’ٹی ایل پی پر پابندی نہیں لگائی‘۔ شیخ رشید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ٹی ایل پی پر پابندی نہیں لگائی، وہ اپنے نشانات پر انتخابات بھی لڑ رہے ہیں، وہ نہ یہاں ہیں نہ وہاں، ہم نے تو انکے خلاف سپریم کورٹ سے بھی ابھی تک رجوع نہیں کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ میڈیا رپورٹس میں ٹی ایل پی کو کالعدم کیوں کہا گیا تو وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے انہیں کالعدم قرار دیا ہے اس لیے یہ ان کے نام کے ساتھ لکھا ہے۔ امیہ کی قدرت ہے کہ حکومت نے چونکہ ابھی تک ٹی ایل پی کے خلاف سپریم کورٹ میں پابندی کا ریفرنس دائر نہیں کیا اس لئے انہیں ابھی تک الیکشن لڑنے کی آزادی حاصل ہے۔

Back to top button