حکومت چھوڑنے کی دھمکی پر ANP کو منانے کی کوشش

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے 16 اکتوبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن دوبارہ ملتوی کرنے کی صورت میں حکومتی اتحاد سے نکل جانے کی دھمکی کے بعد اے این پی کی قیادت کو رام کرنے کی حکومتی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، یاد رہے کہ اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ضمنی انتخابات مزید ملتوی ہوئے تو ان کی جماعت حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے گی۔ ایمل ولی خان نے کہا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اگر ضمنی انتخابات مزید ملتوی ہوئے تو وہ نہ صرف حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں گے بلکہ دوبارہ انتخابات میں حصہ بھی نہیں لیں گے۔
ایمل ولی خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ سے کہا تھا کہ خدا کے واسطے سیکیورٹی اداروں کو سیاسی عمل سے دور رکھیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ان کی توقیر میں مزید کمی ہو۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر کو وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو قومی اسمبلی کے 9 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات 90 روز کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ 16 اکتوبر کو ان حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں مگر بااعتماد انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق 12 اور 17 اکتوبر کے درمیان تحریک انصاف وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ کرنا چاہتی ہے جس کے لیے فوجی دستے اور پولیس نفری کو وہاں تعینات کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیلاب کی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے فوج اور دیگر ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں لہٰذا ضمنی الیکشن کی تاریخ میں 90 دن کی توسیع کی جائے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے 9 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرکے 16 اکتوبر کو کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ 9 اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے پولنگ شیڈول میں تبدیلی متوقع عید میلادالنبی ﷺ کے باعث کی گئی، اجلاس میں ای سی پی کو بتایا گیا تھا کہ حلقہ این اے 157 ملتان فور، پی پی 139 شیخوپورہ فائیو، پی پی 209 خانیوال سیون اور پی پی 241 بہاولنگر فائیو کی پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن نے بذریعہ نوٹیفکیشن 9 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی تاہم اس دن عید میلادالنبیؐ متوقع ہے۔
تاہم اب ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ضمنی الیکشن 90 دن آگے کرنے کی درخواست کی ہے جس پر عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پھٹ پڑی ہے اور اس نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات اسلئے ملتوی کیے جا رہے ہیں کہ عمران اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ الیکشن جیت نہ جائیں۔ یاد رہے کہ ایران قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 9 میں سے آٹھ سیٹوں پر خود امیدوار ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا وہ این پی کے لیے بھی قابل قبول ہوگا۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے سیلاب اور بارشوں کے باعث سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حیدر آباد میں 28 اگست کو شیڈول بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جانے کے ایک روز بعد کراچی میں بھی بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیئے تھے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
