پی ٹی آئی کا نیا ترانا سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں کیوں؟

پچھلے کئی مہینوں سے لانگ مارچ کی دھمکیاں دینے والے عمران خان کی تحریک انصاف نے دوبارہ سے سیاسی کارکنوں کا لہو گرمانے کے لیے نئے ترانوں کی ریلیز کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اور اب کپتان کے جلسوں میں پی ٹی آئی کے نئے گانے بھی سنائی دے رہے ہیں، تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پی ٹی آئی کے متوقع لانگ مارچ کے لیے نیا گانا گایا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی گلوکاروں جواد کاہلوں اور شاہ زمان کی جانب سے ریلیز کیے جانے والے گانے میں عمران اسماعیل کی آواز بھی شامل ہے، اس گانے کے بول ہیں ’نکلو کپتان کے لیے، نکلو پاکستان کے لیے۔ اس گانے کا بظاہر مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کی لانگ مارچ کی کال پر لبیک کہنے کے کے لیے لوگوں کو تیار کرنا نظر آتا ہے۔

گانے میں پی ٹی آئی مختلف جلسوں کی جھلکیاں اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ تقاریر کے مناظر بھی شامل ہیں، اس گانے کی ویڈیو کو پی ٹی آئی لیڈر شیریں مزاری نے بھی ایک ٹویٹ میں شیئر کرتے ہوئے متاثر کن قراد دیا۔خیال رہے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اس سے قبل بھی شاہ زمان اور جواد کاہلوں کے ساتھ مل کر گانا ’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے‘ ریلیز کر چکے ہیں جو کہ پارٹی کے جلسوں میں اکثر سنایا جاتا ہے، گانے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

گانے میں ان مناظر کو شامل کرنے پر عبدالجبار ناصر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پارٹی کے ترانے میں دانستہ یا غیر دانستہ الفاظ اور سین شامل کیے ہیں جو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاکستان آنے والے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تذلیل پر مبنی ہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ ’بادی النظر یہ عمل پاکستان کو تنہا و ناکام بنانے کی سازش ہے۔

سوشل میڈیا کے مقبول پلیٹ فارم یوٹیوب پر اس گانے کو 14 ہزار سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد اس گانے کو پسند کر رہی ہے، زاہد سہیل نامی صارف نے لکھا کہ سپر سٹار بیک ود بینگ جبکہ نعمان خان نامی صارف نے ویڈیو کی ٹرانزیشن اور لیرکس کو متاثر کن قرار دیا۔ ثمینہ مہر نامی صارف نے گانے کو ماسٹر پیس قرار دیا، برطانیہ سے رفیق نامی صارف نے لکھا کہ بریلئینٹ، صدام حسین نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بہت مزیدار گانا ہے۔ تاہم رشید علی نامی ایک صارف نے اس گانے کو بوگس قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو شخصیت پرستی سے نکل کر ایک نظریے کا تعین کرکے اسے اپنانا چاہئے۔

Back to top button