حکومت کا الیکٹرک بائیکس متعارف کروانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر الیکٹرک بائکس متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور 22 پاکستانی کمپنیوں کو الیکٹرک بائیک بنانے کے لائنسنز جاری کر دیے ہیں۔ یاد رہے عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور کھپت میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ متبادل ذرائع پر منتقل ہو رہی ہے، پاکستانیوں میں سب سے مقبول اور عام سواری موٹر سائیکل ہے جو کہ پیٹرول پر چلتی ہے لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا یے کہ اسے بھی الیکٹریکل انرجی پر منتقل کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کی جانب سے جلد تفصیلی پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا، حالیہ کابینہ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو ملک بھر میں عام کرنے کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، کابینہ کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کو مرحلہ وار الیکٹرک بائیکس سے تبدیل کیا جائے گا۔وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 90 کمپنیاں موٹر سائیکلز اور آٹو رکشہ بنا رہی ہیں اور ملک میں سالانہ چھ ملین موٹر سائیکلز بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن اب انہیں الیکٹرک بائیک بنانے کے لیے کہہ دیا گیا ہے جس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہو گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان میں اگرچہ اس وقت 22 کمپنیاں لائسنس حاصل کر چکی ہیں لیکن مارکیٹ میں صرف پانچ کمپنیوں کی ای بائیکس دستیاب ہیں۔جیگوار الیکٹرک بائیک اپنی مکمل چارج شدہ بیٹری کے ساتھ 71 کلومیٹر تک چلنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔ اس کی رفتار بہت بہترین اور آواز بھی بہت کم ہے۔ اس کی بیٹری 5 گھنٹے میں مکمل چارج ہوتی ہے۔ جولٹا الیکٹرک ایک پاکستانی کمپنی ہے جو الیکٹرک بائیک کے چار ماڈلز اور ایک سکوٹی تیارکر رہی ہے۔ ان کی رفتار 50 سے 80 کلومیٹر ہے، جے ای 70 ایل، جے ای 70 ڈی، جے ای 100 ایل، جے ای 125 ایل، جے ای سکوٹی خواتین کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔ 125چلانے کے شوقین افراد کے لیے تقریباً انہی خصوصیات کی حامل جے 125 ایل کی رفتار 80 سے 100 کلومیٹر ہے۔ اس کی بیٹری اگرچہ ایڈوانس ہے لیکن اسے کسی بھی جگہ چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ کمپنی بھی چار قسم کے الیکٹرک بائیک تیار کر رہی ہے جن میں ای بائیک ٹی 60، ای بائیک ٹی 70، ای بائیک ٹی 75 اور ای بائیک ٹی 85 شامل ہیں۔ یہ بائیکس تین سے پانچ گھنٹے میں چارج ہوتی ہیں اور اپنی طاقت کے حساب سے ان کی حد رفتار بھی 50 سے 100 کلومیٹر ہے۔

یہ بائیکس بغیر کِک کے سٹارٹ ہوتی ہیں جبکہ ان کے ٹائر بھی ٹیوب لیس ہیں، ان کا سائز بھی دیگر موٹر سائیکلوں کی نسبت چھوٹا ہے۔ یہ ایک سپورٹس بائیک ہے جس میں 2000 واٹ کی موٹر نصب ہے۔ اس کی رفتار 90 کلومیٹر تک ہے۔ اس کی ٹرانسمیشن آٹو میٹک ہے۔ اس بائیک میں آٹو لاک ہیں جو بغیر چابی کے ہیں جبکہ اس کی بیٹری کی خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ 20 فیصد رہ جاتی ہے تو بائیک خود بخود بند ہو جاتی ہے۔ جسے تین سے چھ گھنٹے میں مکمل چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکمل سٹیل باڈی الیکٹرک بائیک 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلایا جا سکتا ہے۔ اسمیں اینٹی تھیفٹ سسٹم بھی موجود ہے جبکہ اسکی بیٹری 1500 واٹ کی ہے۔

ابتدائی طور پر پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں جو 80 ہزار سے شروع ہو کر ایک لاکھ تک تھیں لیکن ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد ہی اب یہ قیمتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں۔ جولٹا الیکٹرک کمپنی کے سی ای او عثمان شیخ کے مطابق ان کے بائیکس کی قیمت ابتدا میں 82500 تھی جو اب بڑھ کر 112,000 روپے ہو چکی ہے۔ ڈرائی بیٹری کے ساتھ چلنے والی جولٹا موٹر سائیکل 50 کلومیٹر کی ٹاپ سپیڈ کے پر مکمل چارج شدہ بیٹری کے ساتھ 80 کلومیٹر تک چلتی ہے۔

اسی طرح جولٹا سکوٹی کی قیمت 125,000 روپے ہے۔ دیگر کمپنیوں کی الیکٹرک بائیکس کی قیمتیں جو 90 ہزار کے لگ بھگ تھیں اب ایک لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہیں۔ آٹو سیکٹر کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کو متعارف کرانا ایک بڑا چیلنج ہے، دوسرا بڑا چیلنج ان بائیکس کی مقامی سطح پر تیاری ہے کیونکہ حکومت امپورٹڈ بائیکس کے حق میں نہیں ہے اور اسکا موقف ہے کہ اس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیسرا بڑا چیلنج یہ ہے پاکستان میں لوگ پاورفل بائیکس چلانے کے عادی ہیں اور انھیں ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کی بچت جیسے عوامل کے بارے میں کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے، اس لیے انھیں قائل کرنے میں بھی وقت لگے گا۔

Back to top button