کوئٹہ کا رہائشی 60 بچوں کا والد مزید اولاد کا خواہاں

کوئٹہ کا رہائشی سردار حاجی جان محمد خان 60ویں بچے کا والد بن جانے کے بعد بھی مزید اولاد پیدا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور اس مقصد کیلئے اپنی بیویوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سردار حاجی جان محمد خان کے گھر یکم جنوری کو ساٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں میں سے پانچ اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں جبکہ 55 حیات اور صحت مند ہیں۔نانھوں نے کہا کہ وہ 60 بچوں پر اکتفا نہیں کریں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو مزید بچے بھی پیدا کریں گے جس کے لیے وہ چوتھی شادی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں، پچاس سالہ سردار جان محمد خان کا تعلق خلجی قبیلے سے ہے اور وہ کوئٹہ شہر میں مشرقی بائی پاس کے رہائشی ہیں، وہ میڈیکل پریکٹشنر ہیں اور اسی علاقے میں ان کا کلینک بھی ہے۔
حاجی جان محمد خان نے بتایا کہ ان کی ساٹھویں اولاد بیٹا ہے جس کا نام خوشحال خان رکھا گیا ہے، انکے مطابق ’خوشحال خان کی والدہ کو پیدائش سے قبل میں عمرہ پر لے گیا تھا اس لیے میں ان کو حاجی خوشحال خان کہتا ہوں، اس سوال پر کہ کیا اتنے بچوں کے نام یاد رہتے ہیں تو انھوں نے زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’کیوں نہیں؟‘ خیال رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050 تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے، اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ کی دہائی کے بعد سے پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور 2020 میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے تاہم جہاں پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی پاکستان میں یہی شرح 1.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
لیکن سردار جان محمد سب مزید بچوں کی خاطر چوتھی شادی کرنا چاہتے ہیں، انکے بقول میں نے اپنے دوستوں کو کہا ہے کہ وہ میری چوتھی شادی کے لیے خاتون کی تلاش میں مدد کریں، عمر ہاتھ سے نکل رہی ہے اس لیے میری خواہش تو یہی ہے کہ چوتھی شادی جلدی ہو۔
انھوں نے کہا کہ مزید بچے پیدا کرنا نہ صرف ان کی خواہش ہے بلکہ انکی بیگمات بھی یہی چاہتی ہیں اور بیٹوں کے مقابلے میں ان کے ہاں بیٹیوں کی تعداد زیادہ ہے، ان کے بعض بچوں اور بچیوں کی عمریں 20 سال سے زیادہ ہیں تاہم ابھی تک ان میں سے کسی کی شادی نہیں کروائی کیونکہ وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مالی اعتبار سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
حاجی جان محمد نے کہا کہ ان کا کاروبار بڑا نہیں اور کے گھر کے تمام اخراجات کا انحصار ان کے کلینک پر ہے، پہلے انکو بچوں کے اخراجات کے حوالے سے بہت زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا لیکن گذشتہ تین سال سے مہنگائی میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ سے ان کو مالی مشکلات پیش آ رہی ہیں، انکا کہنا یے کہ کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، آٹے، گھی چینی سمیت تمام بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا یے، لہذا حکومت کو میرے خاندان کی امداد کرنی چاہئے۔
