حکومت کا تحریک لبیک کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ

کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور سفارت خانے کی بندش کے مطالبے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے تحریک انصاف حکومت نے کئی روز سے جاری امن مذاکرات ختم کرتے ہوئے ریاست کی رٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مریدکے میں تحریک لبیک اور پولیس والوں کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کی بجائے ریاستی طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے احتجاجی مظاہرین کو کسی صورت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی اور انہیں جہلم پہنچنے سے پہلے ہی طاقت کے استعمال کے ذریعے ضلع گوجرانولہ کی حدود میں ہی منتشر کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو ہر صورت طاقت کے ذریعے روکا جائے گا اور کسی مسلح جتھے کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تحریک لبیک کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے لیکن فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بہت ہو گئی، اب تحریک لبیک کو مزید چھوٹ نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ لوگ اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کر رہے ہیں لہذا وزیر داخلہ اور متعلقہ اداروں کو تحریک لبیک سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن استعمال کرنے کی باقاعدہ اجازت دی جاتی ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ اب تحریک لبیک کے ساتھ ایک عسکریت پسند جماعت کے طور پر نمٹا جائے گا اور آہنی طاقت کا بھرپور استعمال ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان کسی عسکریت پسند گروہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو پولیس نے گوجرانوالہ کے قریب جی ٹی روڈ پر سادھو کی کے مقام پر پیش قدمی سے روک رکھا ہے۔ پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے شیلنگ جاری ہے جبکہ مارچ کے شرکا بھی پولیس پر جوابی پتھراؤ کر رہے ہیں۔ اس دوران درجنوں پولیس والے اور سینکڑوں مظاہرین زخمی ہو چکے ہیں۔
تحریک لبیک کے مارچ کو روکنے کے لیے پولیس نے سادھو کی کے قریب سڑک کو کاٹ کر خندق بنا دی ہے جبکہ اس کے اطراف میں مٹی کے کنٹینر رکھ کر سڑک کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ خندق سے ایک کلومیٹر پیچھے ہی پولیس نے چاروں طرف سے مارچ پر شیلنگ کی جبکہ اس سے پہلے سپیکروں سے اعلان کر کے مارچ کے شرکا کو رکنے کی وارننگ بھی دی جاتی رہی۔ اس دوران ریلی کے اوپر فضا میں دو ہیلی کاپٹر بھی نمودار ہوئے جو ریلی کی نگرانی کرتے رہے۔
پولیس نے شرکا کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا تاہم تحریک لبیک کے کارکنان کا دعویٰ ہے کہ یہ پانی نہیں بلکہ تیزاب ہے جس کے باعث سینکڑوں کارکنان گھائل ہوئے ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر اس وقت گوجرانولہ سے لاہور کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔ مارچ کو روکنے کے لیے اس وقت لاہور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کی پولیس فورس کو استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ مارچ کے چاروں اطراف میں انٹرنیٹ کی سہولت پہلے ہی منقطع کی جا چکی ہے۔ بدھ کے روز ہونے والی جھڑپوں میں تحریک لبیک کے کئی کارکنان اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خیال رہے کہ 27 اکتوبر بروز بدھ صبح 10 بجے کے قریب تحریک لبیک نے مریدکے سے مارچ کا دوبارہ آغاز کیا تھا اور راستے میں حکومت کی طرف سے کھڑے کنٹینر کرین کی مدد سے ہٹا کے راستہ صاف کیا گیا۔ اس سے قبل کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک نے مریدکے میں چار روز دھرنے کے بعد حکومت کی جانب سے مقررہ وقت پر مطالبات نہ ماننے کے بعد اسلام آباد کی طرف دوبارہ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مارچ کی قیادت کرنے والے مفتی محمد وزیر کے مطابق ’ہم نے اسلام آباد کی طرف مارچ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں لیکن حکومت سنجیدہ نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ مارچ کے شرکا پر امن رہیں گے۔
ادھر پنجاب پولیس کی بھاری نفری مریدکے سے آگے تعینات کی جا چکی ہے۔ جس میں مریدکے شیخوپورہ اور لاہور کے ہزاروں پولیس اہلکار شامل ہیں۔ تحریک لبیک کے ممکنہ طور پر مریدکے سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کے پیش نظر اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر ہٹائے گئے کنٹینرز دوبارہ لگا دیے گئے ہیں۔ بدھ کی رات گئے مری روڈ راولپنڈی سے اسلام آباد داخل ہونے کا راستہ بند کر دیا گیا اور اس کے علاوہ دیگر راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پیر سرور شاہ نے کہا تھا کہ ’حکومت نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا اور اگر رات 12 بجے تک مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو ہم بدھ کی صبح اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیں گے اور پھر جو بھی ہو گا اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ پیر سرور شاہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے ان سے کہا تھا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے حل کروائیں گے اور اس کے لیے منگل رات 12 بجے تک کی ڈیڈلائن رکھی گئی تھی۔ ہمارا یہ مؤقف تھا کہ اصل مسئلہ فرانسیسی سفیر کا ہے، باقی ہمارے امیر کی گرفتاری اور ہمیں کالعدم قرار دینا اس معاملے پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وعدے کا پاس رکھا اور حکومت کے کہنے پر مریدکے سے آگے نہیں بڑھے۔ منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں سوائے فرانس کے سفارت خانے کی بندش اور سفیر کو نکالنے کے، آج رات آٹھ بجے ان سے پھر بات کی جائے گی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے آج رات راستے کھولنے کا کہنا تھا۔ ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے مطالبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ہمارے اوپر پابندیاں لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ شیخ رشید کے مطابق فرانس اس وقت یورپ کو لیڈ کر رہا ہے اور سارے یورپی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں لہذا پاکستان فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کا رسک نہیں لے سکتا۔
