خبردار!بچوں پر جسمانی سزائوں ، تشدد کیخلاف بل منظور
اسلام آباد میں بچوں پر جسمانی سزائوں کی ممانعت کے بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منظوری دے دی ہے ، بل کی منظوری کے بعد بچوں پر تشدد کرنے اور جسمانی سزا دینے والوں کو گرفتار کیا جا سکے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا ، بل کو چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے پیش کیا ، سینیٹ 2012 میں قواعد و ضوابط کے طریقہ کار کے تحت قائمہ کمیٹی نے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کو اس اجلاس کے لیے چیئرمین کے طور پر کام کرنے کے لیے منتخب کیا ہے ۔
اس سے پہلے یہ بل سینیٹر سعدیہ عباسی نے پیش کیا تھا جسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے پاس غور کے لیے بھیجا گیا تھا۔کمیٹی نے مختلف مذہبی اور غیر مذہبی گروہوں کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد بل کا تفصیلی جائزہ لیا اور ضروری ترامیم کیں تاہم مقررہ 90 دن کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے بل منظور نہیں ہوسکا تھا ۔
بچوں پر جسمانی سزائوں کی ممانعت کابل سینیٹ میں نظر ثانی شدہ اور ترمیم کے ساتھ پیش کیا گیا اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو ایک دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے ۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی سربراہی میں کمیٹی نے منگل کو شقوں پر تفصیلی غور کیا جس کے بعد معمولی تبدیلیوں ،دستاویز کو شق وار پڑھنے کے بعد بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔
بل میں کسی ب ادارے کی جانب سے بچوں کے خلاف جسمانی سزا کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، جس میں تعلیمی ادارے بشمول رسمی اور غیر رسمی اور مذہبی دونوں سرکاری اور نجی، بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے بھی شامل ہوں گے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظور کردہ اس بل میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں اور جائے کار پر بچہ ملازمین پر جسمانی تشدد کی صورت میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جس میں ملازمت سے برطرفی کی شق بھی شامل ہے۔
بل کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ایک بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی شخصیت اور انفرادیت کا احترام کیا جائے اور اسے جسمانی سزا کا نشانہ ہر گز نہ بنایا جائے۔قائمہ کمیٹی کے اراکین نے موقف اپنایا کہ اس بل کو صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ چاروں صوبوںسے قانون سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
