رمیز راجہ نے کرکٹ بورڈ پر اپنا قبضہ مکمل کرلیا
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین مین رمیز راجہ نے وقاریونس اور مصباح الحق کی چھٹی کروانے کے بعد پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کو بھی گھر بھجوا دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رمیز راجہ نے وسیم خان کے لیے بھی وقار یونس اور مصباح الحق کے معاملے کی طرح ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ ان کے پاس استعفی دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا تھا۔ وسیم خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے رمیز راجہ کرکٹ کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی بجائے بورڈ پر اپنا قبضہ جمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اسی لیے انہوں نے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات واضح طور پر کم کر دیے تھے جس کے بعد انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
پاکستانی کرکٹ کے معاملات پر نظر رکھنے والے سپورٹس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رمیز راجہ کے چئیرمین بننے کے بعد بورڈ میں تبدیلیوں کی خبریں تو زیر گردش ہی تھیں لیکن نئے چئیرمین کے آنے کے فوراً بعد اتنی تیزی سے تبدیلیوں کے بارے گمان نہیں کیا جارہا تھا۔ سراصل رمیز راجہ 13 ستمبر کو چئیرمین پی سی بی منتخب ہوئے تھے لیکن بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے بورڈ آف گورنرز میں اپنی نامزدگی کے بعد سے ہی بورڈ کے معاملات دیکھنا شروع کر دیے تھے حالانکہ تب وہ چیئرمین بھی منتخب نہیں ہوئے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بورڈ کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد سے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ کو دو بڑے دھچکے لگ چکے ہیں لیکن ان معاملات کو سدھارنے کی بجائے رمیز راجہ کی ساری توجہ بورڈ پر اپنا قبضہ قائم کرنے پر ہے جس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
رمیز راجہ کی جانب سے کرکٹ بورڈ کی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد وسیم خان تیسرے اہم شخص ہیں جنہوں نے استعفی دیا ہے۔ اس سے قبل ہیڈ کوچ مصباح الحق اور وقار یونس نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وسیم خان نے بھی وقار اور مصباح کی طرح اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے حلقوں میں یہ بات زیر گردش ہے کہ رمیز انتظامی عہدوں پر تبدیلیاں کرنے کے علاوہ چیف ایگزیکٹیو کے اختیارات بھی اپنے پاس رکھنا چاہ رہے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے وسیم خان کے اختیارات میں بھی کمی کر دی تھی جس نے انہیں استعفے دینے پر مجبور کر دیا۔ یہ بھی۔معلوم ہوا ہے کہ اب کرکٹ بورڈ میں چیف ایگزیکٹو کی جگہ ڈائیریکٹر کرکٹ کا عہدہ تخلیق کرنے پر غور کیا جارہا ہے جو کسی سابق کرکٹر کو دیے جانے کا امکان ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا یے کہ مستقبل قریب میں پی سی پی کے اور بھی لوگ استعفے دینے والے ہیں جن میں ڈائریکٹر کمرشل اور ڈائیریکٹر پاکستان سپر لیگ کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر تعینات ہونے والے وسیم خان پاکستانی نژاد برطانوی ہیں جن کے خاندان کا تعلق کشمیر کے علاقے میر پور سے ہے لیکن ان کی پیدائش برمنگھم میں ہوئی۔ وسیم خان نے واراک شائر، سسیکس اور ڈربی شائر کی جانب سے انگلینڈ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے جبکہ لیسٹرشائر کاونٹی کرکٹ کلب کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چیئرمین احسان مانی نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے وسیم خان کو 2018 میں مینجنگ ڈائیریکٹر تعینات کیا بعدازاں آئین میں تبدیلی کر کے انہیں چیف ایگیزکٹو کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ تاہم ان کی تعیناتی پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ ایک شخص جس کا پاکستانی کرکٹ سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اس کو چیف ایگزیکٹیو بنانے کا کیا جواز ہے۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ وسیم کو احسان مانی نے اپنے ذاتی تعلق کی بنا پر چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سونپ دیا تھا۔
